Space tales

Once upon a time…

Drawn from: Somewhere in space, Mystery story, a random character related to $selectedTheme, Woman vs Society Conflict. Told in Urdu.

میں اکیلا رہتا ہوں اُس بستی میں جو تاروں کے گیسو کے کنارے بسی ہے۔ یہاں ایک رواج ہے: ہر نئے چاند پر ہم شیشے کی بانسری بجاتے ہیں تاکہ راستہ بدلتی ہوا ہمیں بھول نہ جائے۔ ایک عورت تھی، نام لیما، جو بانسری نہیں بجاتی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ ہوا کو یاد رکھنے کے لیے آواز نہیں چاہیے، سچ چاہیے۔

بزرگوں نے کہا، “یہ دستور توڑتی ہے، کل کشتیوں کی سمت گم ہو جائے گی۔” لیما نے جواب دیا، “اگر راستہ بانسری سے بندھا ہے تو ہمارا دل کس سے بندھا ہے؟” اسی رات نیلا طوفان آیا۔ آسمان کے آئینوں میں بستی الٹی دکھی۔ سب نے مجھے کہا، “جا کر اسے خاموش کراؤ۔” میں گیا تو لیما چولھے کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے بانسری توڑی اور راکھ پر سیدھی لکیر کھینچی۔ کہنے لگی، “ہوا سیدھی چیزوں کو پہچانتی ہے۔”

ہم نے لکیر بستی کے کنارے تک بڑھائی۔ طوفان تھم گیا، اور آئینے درست ہو گئے۔ صبح کو لوگوں نے کہا یہ نئی رسم ہوگی۔ مگر لیما چلی گئی۔ میں ہر نئے چاند پر بانسری نہیں بجاتا، میں راکھ میں لکیر کھینچتا ہوں، اور ہوا اسے یاد رکھتی ہے۔

Ask for your own story