Once upon a time…
Drawn from: Europe, Present world story, a random character related to $selectedTheme, man vs immortality. Told in Urdu.
میں وارسا کی ایک فیکٹری میں ویلڈر ہوں۔ روز لوہے کے دھاگے جوڑتا ہوں، شام کو ہاتھوں سے دھواں نکلتا ہے اور کپڑوں سے چنگاریوں کی بو۔ پچھلے سال کمپنی نے نیا کنٹریکٹ دیا—ایک آرٹسٹ نے شہر کے بیچ میں فولاد کا مجسمہ تجویز کیا: انسان کی “ابدی” جدوجہد۔ ہم نے راتیں جاگ کر ستون کھڑے کیے، جوڑوں کو ایسڈ سے چمکایا۔ آرٹسٹ کہتا تھا، یہ شہر کے لیے “لامرگی یاد” ہوگا۔
افتتاح کے دن میں بیٹے کو لے گیا۔ اس نے پوچھا، بابا، یہ کبھی ٹوٹے گا؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا، اسٹیل ہے، عمر بھر کھڑا رہے گا۔ اسی شام گھر میں دادی کی سانس اٹکی؛ ایمبولینس دیر سے آئی۔ ہم تین دن بعد قبرستان گئے۔ بارش، کیچڑ، اور مٹی کے نیچے وہ خاموش۔
ایک ہفتے بعد میں مَیدان سے گزرا۔ مجسمے کی سطح پر باریک زنگ کے دھبے تھے—ہوا کی نمی، سردی کی سانس۔ میں نے دستانے اتارے اور دھبے کو انگلی سے رگڑا۔ خیال آیا: ہم لوگ روز کھوپڑی میں تھکن بھر کر، کچھ دیر کے لیے وقت کو دھوکہ دیتے ہیں۔ امریت یہاں نہیں؛ یہاں صرف کام ہے، کل کی تنخواہ، اور ایک چمکتا سا چہرہ جو اگلی بارش میں پھر ماند پڑ جائے گا۔
Did it land?