Fantasy worlds

Once upon a time…

Drawn from: Middle Earth, Present world story, Trickster, anything you want. Told in Urdu.

شام کے دھندلکے میں جب ہوبٹن کی پہاڑیوں پر ہلکی بارش کے بعد گھاس سے بھاپ اٹھ رہی تھی، گاؤں کی خبرنامہ چادر—وہی جسے سب “بلاٹ بورڈ” کہتے تھے—کے نیچے ایک نوٹس چپکا ہوا ملا: “کھوئی ہوئی انگوٹھی۔ چھوٹا سا چاندی کا حلقہ۔ یادگار۔ مل جائے تو تادیئس برَیم کو اطلاع دیں۔”

تادیئس کوئی مشہور ہیرو نہیں تھا۔ وہ بس ایک عام سا ہوبٹ تھا، نرم چشمک اور چھوٹی دکان والا، جو ہر صبح تازہ روٹی اور بُن بیچتا اور شام میں اپنے باپ کے مٹی کے گملوں میں تلسی کے پودوں کو پانی دیتا۔ مگر انگوٹھی اس کے لیے عام نہیں تھی۔ یہ اس نے مارکٹن کے کنارے ایک چھوٹی دھنیا بیچنے والی لڑکی کو مسکراتے ہوئے دی تھی جب وہ دونوں بہت کم عمر تھے، اور پھر کبھی حالات کے بہاؤ میں وہ مسکراہٹ ہاتھ سے پھسل گئی۔ انگوٹھی لوٹ آنا شاید کچھ واپس لے آئے—یا شاید ہی صرف ایک یاد کی جگہ پر دوسرا یاد۔

خبر پر صرف ایک جواب آیا—کاغذ کا گول مول خط، جس میں بس اتنا لکھا تھا: “مجھے لگتا ہے یہ انگوٹھی مل گئی ہے۔ شام کو پرانے مل کے پاس آ جائیں۔” دستخط: ایلری، رینجر۔

مل کے پاس وہ لمبا قد والا آدمی کھڑا تھا، جسے لوگ شمال کے جنگلوں سے آتے ہوئے دیکھتے تھے۔ اس کی چادر بارش سے بھیگی تھی، مگر آنکھوں میں ایسی روشنی تھی جیسے وہ بہت دور تک راستوں کو جانتا ہو۔ اس نے تادیئس کو ایک چھوٹی کپڑے کی تھیلی دی۔ اندر چمکتی چاندی کی انگوٹھی تھی—ہلکی سی خراش کے ساتھ، جیسے وقت نے اس پر سرگوشی کی ہو۔

“یہ کہاں ملی؟” تادیئس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔

“بری چوٹی کے نیچے، ایک خالی کھوہ میں،” ایلری نے کہا۔ “وہاں ایک پیک نِک کا نشان تھا، تمہاری شائر کے لوگ شام کو جاتے ہیں۔ مگر یہ انگوٹھی تنہا تھی۔ لگتا ہے کسی نے جلدی میں بھلا دی ہو۔”

تادیئس نے انگوٹھی کو ہتھیلی میں رکھا تو یادوں کی سرد ہوا سی چلی۔ مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی جھجک بھی۔ ایسی چیزیں شائر میں عموماً کہانیوں کی طرح ختم ہوتی تھیں—کبھی خوشی، کبھی المناک۔ مگر وہ چاہتا تھا کہ یہ بس ایک سیدھی خبر ہو: کھوئی ہوئی چیز مل گئی۔

دوسرے دن، شائر کا چھوٹا سا اخبار—جسے لوگ بیل کی باڑ کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے—نے یہ خبر چھاپی: “کھوئی ہوئی انگوٹھی رینجر نے ڈھونڈ کر واپس کی۔” ساتھ ایک چھوٹی تصویر تھی: تادیئس، شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ، اور ایلری، جس کی آنکھوں میں ہنسی کا عکس۔ لوگوں نے دکان میں آ کر مبارکباد دی، کچھ نے کہا “وہ لڑکی اب کہاں ہو گی؟” تو کچھ نے بس روٹی کے ساتھ قصہ مانگا۔

شام کو ایلری دوبارہ آیا۔ اس بار وہ انگوٹھی کے لیے نہیں، راستے کے لیے آیا تھا۔ اس نے ایک نقشہ کھولا—پرانی کاغذی خوشبو اور بارش کی نمی ساتھ مل کر عجیب سی مہک بناتی تھی۔

“یہاں سے شمال کو، دریا کے موڑ پر ایک چھوٹا پل ٹوٹا ہے۔ لوگوں کو دائیں کنارے سے گزرنا ہوگا، ورنہ کیچڑ میں گاڑیاں پھنسیں گی۔ مجھے تمہاری مدد چاہیے کہ گاؤں بھر میں یہ خبر پہنچ جائے۔”

یہ کوئی بڑی مہم نہیں لگتی تھی، مگر شائر کے حساب سے یہی کافی تھا۔ تادیئس نے اگلے دن اپنی دکان کے باہر تختی لگا دی: “دریا کا پل ٹوٹا—دائیں سے راستہ لیجیے۔” اس نے بچوں کو کھیل کے بہانے پگڈنڈیوں پر بھیجا کہ جا کر چرواہوں کو بتائیں۔ دوپہر تک یہ خبر رسی کی طرح گاؤں میں کھنچ گئی۔

شام اترنے پر، جب آخری روٹیاں بھیج کر دکان بند کی، تادیئس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی، گِب نام، بوسیدہ ٹوپی میں، دکان کے سامنے رک کر ہانپ رہا ہے۔ “میں پل کے راستے ہی جا رہا تھا… تمہاری تختی نے بچا لیا۔” وہ مسکرایا، دانتوں میں خلا جھلملایا۔ “سارا سیب کا چھوٹا ذخیرہ لے جا رہا تھا۔”

ایلری نے یہ سنا تو بس سر ہلا دیا۔ اس نے کہا، “بڑی دنیا کے بڑے کام ہوتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایک تختی، ایک جملہ، ایک وقت پر دیا گیا اشارہ—بس وہی کافی ہے۔”

رات کو، جب چراغوں کی ہلکی روشنی کھڑکی سے باہر بہہ رہی تھی، تادیئس نے انگوٹھی پھر سے ہتھیلی میں لی۔ اس نے سوچا کہ وہ لڑکی اب کہاں ہو گی۔ شاید مشرق کی طرف کسی بڑے شہر میں، شاید کسی چھتے دار صحن میں چائے پیتی ہوئی۔ وہ خط لکھ سکتا تھا، اخبار کی اطلاع کے ساتھ۔ مگر پھر اسے خیال آیا کہ بعض یادیں زیادہ اچھی ہوتی ہیں جب انہیں بس صحیح جگہ رکھ دیا جائے—جیسے نقشے پر ایک چھوٹا سا نشان، جو بتاتا ہے کہ یہاں سے مڑنا ہے۔

اس نے انگوٹھی ایک چھوٹے صندوق میں رکھ دی، اس کی اوپر والی دراز میں۔ باہر کسی نے بانسری بجانی شروع کی—ہوا کے ساتھ میل کھاتا ہوا ایک سیدھا راگ۔ اگلی صبح تختی پھر سہی کی جائے گی، خبروں پر نظر رکھی جائے گی، اور روٹی کے ساتھ کچھ تازہ قصہ دیا جائے گا۔ اور شاید یہی روزمرہ کی خاموش بہادری تھی—شائر کی خبرنامہ چادر پر چھپنے کے لائق، مگر گھر کی میز پر بھی فٹ آنے والی۔

Ask for your own story