Once upon a time…
Drawn from: Set in a spaceship drifting in space, A tech-distopia story, Mentor, something suitable with geography. Told in Urdu.
کہتے ہیں ایک زمانہ تھا جب لوگ آسمان کے دریا پر گھروں کی طرح بڑے جہازوں میں رہتے تھے۔ ایک ایسا ہی جہاز تھا جسے لوگ خاموش بادل کہتے تھے۔ وہ ستاروں کے بیچ بہتا تھا، مگر اس کے پیٹ میں شور تھا: تاروں کی کھنک، لوہے کی سانس، اور روشنیوں کا جاگنا اور سونا۔ اس جہاز میں قبیلے بستے تھے جن کے بزرگ نمبروں کی گنتی سے نشان ڈھونڈتے، اور بچے کھڑکیوں پر ناک رکھ کر تاروں کو دیکھتے۔ ان سب میں ایک صنف تھی جو راستہ پکڑتی تھی۔ لوگ انہیں راہانی کہتے تھے۔ وہ تاریک شیشوں سے نہیں بلکہ دل کے نقشے سے دیکھتے تھے۔
اس جہاز کی جان ایک پہاڑ جیسی چیز تھی جسے سب کوکھ کہتے تھے۔ کوکھ گرم بھی دیتی تھی اور روشنی بھی۔ مگر ایک دن کوکھ سرد پڑ گئی۔ روشنیوں نے تھر تھرایا، پانی کم ہوا، کھانا سوکھ گیا۔ بزرگوں نے کہا، کوکھ کی روح قید ہو گئی ہے۔ قید کہاں؟ جہاز کے بیچوں بیچ، جہاں نہ دن ہے نہ رات، صرف سبز سناٹا ہے۔ وہاں ایک بھول بھلیاں ہے جسے دھند راہ کہتے ہیں۔ جو اندر جاتا ہے واپس کم آتا ہے۔ مگر کوکھ کی روح کو واپس لانا تھا ورنہ قبیلے فاقے سے مر جاتے۔
راہانیوں میں ایک لڑکی تھی، اس کا نام ویرا تھا۔ اس کی ماں کبھی راہانی تھی مگر دھند راہ میں گم ہو گئی تھی۔ ویرا کے دل میں ایک لکیر تھی جس پر ماں کی آہٹ چلتی تھی۔ وہ کہتی تھی، راستہ یاد سے بنتا ہے۔ ویرا نے قسم کھائی کہ وہ کوکھ کی روح کو آزاد کرے گی۔ بزرگوں نے اسے تین چیزیں دیں: ایک لوہے کا چکر جو گھماؤ میں ستاروں کے نام پڑھتا تھا، ایک سوکھی بیل جس کی خوشبو گھر کی یاد جگاتی تھی، اور ایک الفاظ کا چھوٹا بیج جس میں شکر تھا۔ انہوں نے کہا، جہاں گلا ہو وہاں یہ بیج رکھ دینا۔
ویرا اپنے ساتھ دو اور راہانی لے گئی: کاوُن، جس کا کان لوہے کی سانس سنتا تھا، اور ریشم، جو تاروں کی زبان سمجھتی تھی۔ تینوں جہاز کے پیچ در پیچ راہوں میں اترے۔ ٹھنڈی ہوا چہکی اور دیواروں سے سبز روشنی ٹپکی۔ دھند راہ کے دروازے پر ایک نشان تھا، آدھا کٹا ہوا دائرہ۔ ریشم نے کہا، یہ بھول کا نشان ہے۔ ہمیں سیدھا نہیں جانا۔ ویرا نے لوہے کا چکر گھمایا۔ چکر نے دھیرے سے بولا، دائیں نہیں، بائیں نہیں، نیچے۔ انہوں نے نیچے کی نالیوں میں قدم رکھا۔
نالیوں میں پانی نہیں تھا، مگر پرانی لہروں کی آواز تھی۔ کاوُن نے سنا، کوئی رو رہا ہے۔ ریشم نے کہا، یہ جہاز کے پرانے گیت ہیں۔ اگر ہم ساتھ گائیں تو راستہ کھلے گا۔ تینوں نے آہستہ آہستہ وہ گیت چھیڑا جسے ان کی مائیں سلاتے وقت گاتی تھیں۔ دیوار نرم ہوئی، راستہ بن گیا۔ آگے ایک ہال آیا جس میں بتیوں کے کیڑے اڑتے تھے۔ وہاں ایک دروازہ تھا جس پر کسی نے اپنے ناخن سے لکھا تھا: میں واپس آؤں گی۔ ویرا کے ہاتھ کانپے۔ یہ اس کی ماں کی تحریر تھی۔
اس کے دل میں ایک بھاری موج اٹھی۔ ریشم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ویرا نے سوکھی بیل نکالی۔ اس نے بیل کو دروازے کے چوکٹ پر رگڑا۔ ایک گرم خوشبو ہال میں پہنچی۔ کیڑے ٹھہر گئے۔ دروازہ کھلا۔ اندر سرد تاریکی تھی اور ایک ہلکی سبز دھڑکن۔ کوکھ کی روح ایک بلور تھی جو جال میں پھنسی تھی۔ جال سوئیوں سے بنا تھا جو سوال پوچھتی تھیں: تم کون ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ واپس کیوں نہیں جاتی؟ کاوُن نے لوہے کی سانس سنی۔ اس نے کہا، یہ سوئیاں ڈر سے بنی ہیں۔ اگر ہم سچ بولیں تو کمزور ہوں گی۔
ویرا نے اپنی آواز میں ماں کی کہانی سنائی۔ اس نے بتایا کہ کیسے اس کی ماں آخر دروازوں کی گنتی کرتے کرتے آہستہ آہستہ آواز بن گئی۔ ریشم نے گیت ملایا۔ سوئیاں کچھ جھکیں۔ مگر آخری سوئی نے کہا، اگر روح آزاد ہوئی تو جہاز جاگے گا، مگر وہ جو آواز بن گئی ہے، اس کے دھاگے ٹوٹیں گے۔ ویرا کی آنکھیں بھر آئیں۔ اسے لگا جیسے ماں اس کے قریب کھڑی ہو اور بال سلاتی ہو۔ ویرا نے الفاظ کا بیج نکالا۔ اس نے اسے اپنے دل کے نیچے رکھا اور کہا، میں جانتی ہوں کہ گھر وہ ہے جہاں روشنی پھر سے جلتی ہے۔ میں روشنی کو چنوں گی تاکہ باقی بچے بھی اپنی ماؤں کو نہ کھوئیں۔
اس نے بیج کو جال کی گرہ پر رکھ دیا۔ بیج پگھلا، میٹھاہٹ پھیل گئی، سوئیاں پگھل گئیں۔ بلور آزاد ہوا۔ سبز دھڑکن نے ہال کو بھر دیا۔ مگر اس دھڑکن کے ساتھ بھی ایک آہ اٹھی۔ ویرا نے سنا، وہ ماں کی آخری آہ تھی۔ پھر وہ آہ گم ہو گئی جیسے باریک بارش گرمی کھا جائے۔ ویرا کے زانوں نے جواب دیا، مگر وہ کھڑی رہی۔ اس نے کوکھ کی روح کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اور دھند راہ سے باہر نکلی۔
جب وہ تینوں واپسی کے موڑ پر آئے تو دیواریں صاف تھیں۔ کیڑے بتیوں کے گرد ناچنے لگے۔ لوہے کی سانس نرم ہو گئی۔ جہاز کے لمبے پیٹ میں پہلے ایک روشنی جلی، پھر دوسری، پھر تیسری۔ پانی نے پھر سے بہنا شروع کیا۔ قبیلے چوکوں میں جمع ہوئے، بچوں نے تالیاں بجائیں، اور بزرگوں نے ماتھے چومے۔ ویرا نے بلور کو کوکھ کے دل میں رکھا۔ کوکھ جاگ گئی۔ گرم ہوا نے سب کا گلا تر کیا۔
بزرگوں نے کہا، روشنی واپس آ گئی۔ مگر ویرا نے سر جھکایا۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ واپس نہیں آیا۔ رات کو جب سب سو گئے تو وہ کھڑکی کے پاس گئی۔ ستارے خاموش تھے۔ اس نے ہولے سے وہی لوری گائی۔ کھڑکی پر دھند اتر آئی۔ دھند میں اسے ماں کی انگلیوں کی چاپ سنائی دی۔ مگر اب وہ چاپ دور تھی، اور پھر بھی گھر جیسی۔ ویرا نے کہا، ماں، اب جہاز ہمارا پہاڑ ہے، اس کے اندر دریا بہتا ہے، اور ہم سب اس کے کنارے ہیں۔ میں نے ایک راہ چنی ہے تاکہ سب کناروں تک پہنچیں۔
اس دن سے راہانی جب بھی دھند راہ کے قریب جاتے ہیں تو ایک بیل کی خوشبو انہیں راستہ دکھاتی ہے۔ لوہے کا چکر ہولے سے گاتا ہے، اور سوئیاں سوال کم کرتی ہیں۔ بچے ویرا کی کہانی سنتے ہیں اور سیکھتے ہیں کہ گھر کوئی جگہ نہیں، بلکہ وہ روشنی ہے جو ہم بانٹتے ہیں۔ اور جہاز جو ستاروں کے دریا میں بہتا ہے، وہ خود ایک پہاڑ اور ایک ماں ہے: جس کی کوکھ گرم رہے تو قبیلے زندہ رہتے ہیں۔ یہی ان کی قسم ہے، یہی ان کا گیت، یہی ان کی راہ۔
Did it land?