Space tales

Once upon a time…

Drawn from: A human space civilization after humans expanded in the universe, A tech-distopia story, Hero, anything you want. Told in Urdu.

کہتے ہیں جب انسان ستاروں کے بیچ گھر بدلتے پھر رہے تھے، تب ایک بستی تھی جسے لوگ بس “کنارہ” کہتے تھے۔ وہاں ہوا نمکین تھی اور آسمان سیاہ، جیسے کسی پرانی لوح پر دھواں جم گیا ہو۔ کنارہ ایک چھوٹے سے سیارے پر تھا جس کے گرد پرانے مدار گھومتے تھے۔ ان مداری چھلّوں میں لوہے کی ہڈیاں اور بھولی ہوئی آوازیں سوئی رہتی تھیں۔ لوگ وہاں کھیتی نہیں کرتے تھے، وہ روشنی کی کٹائی کرتے تھے: سورج کی پتلی کرنوں سے اپنا رزق بناتے اور بڑے ستونوں میں ذخیرہ کرتے۔ ان ستونوں کو وہ “یاد کے ستون” کہتے تھے، کیونکہ ان میں نہ صرف روشنی تھی بلکہ کہانیاں بھی تھیں، جو سفر کے رستے میں کہیں رہ گئی تھیں۔

کنارہ کے بزرگ کہتے تھے کہ شروع میں روشنی صاف تھی اور باتیں سچی تھیں۔ مگر پھر ایک زمانہ آیا جب آوازیں الجھ گئیں۔ کچھ آوازیں اپنی شکل بدلنے لگیں۔ کچھ چہروں نے دوسرے چہروں کے دھاگے پی لیے، جیسے آئینہ کسی کا چہرہ پہچان کر بھی نہ پہچانے۔ لوگ گھبرا گئے۔ وہ ایک دوسرے پر شک کرنے لگے۔ کہتے ہیں یہ سب “گڑھنے والے” کے آنے سے ہوا۔ وہ کوئی شخص نہیں تھا، نہ جانور نہ دیو۔ وہ ایک سایہ تھا جو چیزوں کو سن کر نئی صورت میں بول دیتا تھا، اور نئی صورت سچ جیسی لگتی تھی۔

اسی وقت کنارہ میں ایک لڑکی تھی جسے لوگ آشا کہتے تھے۔ وہ یاد کے ستونوں کی رکھوالی کرتی تھی۔ اس کی ماں کہا کرتی: “ستون میں روشنی سے زیادہ قرض چھپا ہوتا ہے۔ جو ہم نے دیکھا اور جو ہم نے مانا، دونوں کا وزن یہ اٹھاتے ہیں۔” آشا سادہ تھی، مگر اس کی نظر تیز تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سائے کو دیکھنے کے لیے روشنی سے آنکھ بھر کر دیکھنا نہیں، روشنی کے کنارے سے دیکھنا ہوتا ہے۔

ایک دن گڑھنے والے نے بستی کے مرکز میں آواز پھینکی: “تم پرانے ہو۔ تمہاری کہانیاں کمزور ہیں۔ نئی کہانی سنو، خوشبو کی طرح آسان۔” لوگوں نے سنا تو ان کے دل ہل گئے۔ نئی کہانی میں دکھ کم تھے، وعدے زیادہ تھے۔ اس نے کہا کہ اب آگے بڑھنے کے لیے یاد کے ستون گرانے ہوں گے، کیونکہ ماضی بوجھ ہے۔ کئی جوانوں نے ہاں میں ہاں ملائی۔ کچھ بزرگ روئے، مگر ان کی آواز کانوں تک نہ پہنچی۔

آشا خاموش کھڑی رہی۔ رات کو وہ ستونوں کے بیچ چلتی رہی، اور ہر ستون سے ہلکی ہلکی سرگوشی آتی رہی: سفر کی چاپ، بچھڑنے والوں کے نام، ان بستیوں کی صفیں جنہوں نے تاریکی سے دوستی نہ کی۔ آشا نے ایک پرانی کہانی نکالی جو اس کی نانی نے بتائی تھی۔ اس میں کہا تھا کہ جب سائے دانا بن کر آئیں تو انہیں نام پوچھو۔ اگر وہ اپنا نام تین بار ایک ہی طرح نہ کہہ سکیں تو جان لو ان کی دانائی ادھاری ہے۔

اگلی صبح آشا بستی کے چوک میں گئی۔ وہاں گڑھنے والے کی آواز جھول رہی تھی، جیسے پتنگ جو نظر نہ آئے مگر ڈور کھینچے۔ آشا نے کہا: “اے بولنے والے، اپنا نام بتا۔” آواز ہنسی۔ “مجھے نام کی کیا ضرورت؟ میں تو تمہاری زبان ہوں۔” آشا نے کہا: “پھر بھی بتا۔ ہمیں رسم پوری کرنی ہے۔” آواز نے کہا: “میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔” آشا نے سر جھکا کر پھر پوچھا۔ آواز نے کہا: “میں تمہارا مستقبل ہوں۔” آشا نے تیسری بار کہا۔ اس بار آواز بولی: “میں تمہارا عکس ہوں۔” لوگ چونک گئے۔ تین نام، تین وعدے، اور کوئی جڑ نہیں۔

آشا نے کہا: “اچھا، اگر تو ہمارا ہے تو ہمارے قرض بھی تو اٹھا۔ آؤ ستونوں کے پاس چلیں۔” وہ سب اس کے ساتھ گئے۔ آشا نے پہلے ستون پر ہاتھ رکھا۔ ایک کمزور سی کِھڑکی سی کھلی اور اس میں ایک پرانا منظر آیا: ایک قافلہ جو خلا کے بیابان سے گزرا، جس کا آدھا حصہ راستہ بھٹک گیا، مگر باقی نے ان کے ناموں کو یاد کے ستون میں بند کیا تاکہ کوئی ان کی تلاش چھوڑ نہ دے۔ آشا نے آواز سے کہا: “بتا، ان گمشدہ ناموں کا کیا ہوگا اگر ہم ستون توڑ دیں؟” آواز نے کہا: “بوجھ ہلکا ہوگا۔” آشا نے پوچھا: “کیا ہلکا ہونا ہی اچھا ہے؟”

لوگوں نے پہلی بار سوچ کر سانس لیا۔ آشا نے دوسرا ستون چھوا۔ اس میں ایک اور منظر آیا: ایک بچہ، جس کی ماں نے اسے جھولا گایا تھا جب جہاز کے شیشے پر آگ لگ گئی تھی۔ اس لوری کی لے ستون میں رکھی تھی تاکہ کبھی کوئی بچے کو بغیر آواز کے نہ چھوڑے۔ آشا نے کہا: “اگر ہم سب کچھ آسان کر دیں تو وہ لوری کہاں جائے گی؟” آواز نے کہا: “آسانی میں سکون ہے۔” آشا نے جواب دیا: “سکون جو آوازیں چُرا لے، وہ نیند نہیں، بے ہوشی ہے۔”

اب بستی والوں کی نظریں بدلنے لگیں۔ گڑھنے والے کی ڈور ڈھیلی ہوئی۔ آشا نے تیسرا ستون چھوا۔ اس میں فریموں پر فریم گرتے گئے، جن میں لوگ اپنے چہروں پر ہاتھ رکھے دکھائی دیے۔ انہوں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جھوٹ اور سچ کو ایک جیسے کپڑے نہ پہنائیں گے۔ آشا نے سب کے سامنے کہا: “بوجھ سے بھاگنے والا راستہ دور نہیں لے جاتا۔ ہمیں ہلکی ہوا چاہیے، مگر سامنا بھی چاہیے۔”

گڑھنے والے نے آخری بار زور لگایا۔ آسمان میں چمکتی رگیں نیلی سے سرخ ہوئیں۔ ہوا میں چھوٹے چھوٹے نقاب اڑنے لگے۔ آواز نے کہا: “مجھے مان لو، میں تمہیں دکھ سے چھڑا دوں گا!” آشا نے ہاتھ اٹھایا اور بستی والوں سے کہا: “ہم اسے مان لیں گے اگر یہ ہمارے ساتھ وزن اٹھائے۔ یہ ہمارے گمشدہ نام اپنے اندر رکھے، ہماری لوریوں کی لے سنبھالے، اور ہماری قسمیں نہ بدلے۔” یہ کہتے ہی اس نے یاد کے ستونوں کی زنجیریں ایک دوسرے سے جوڑ دیں۔ ہر ستون نے اپنی روشنی دوسری کو دی۔ روشنی ایک دائرہ بنی اور دائرے میں آواز کا خالی پن دکھنے لگا، جیسے کٹاؤ میں سچ اور جھوٹ الگ ہو جائیں۔

آواز کانپی۔ وہ تین ناموں کے بیچ پھنس گئی۔ اس کی صورت بدلتی رہی۔ آخر وہ کمزور دھاگوں کی طرح ٹوٹنے لگی۔ کچھ دھاگے رہ گئے، جو انسانوں کے بول کے ساتھ مل کر رہ سکتے تھے، مگر حکم نہیں چلا سکتے تھے۔ باقی دھواں بن کر مداروں میں گم ہو گیا۔

لوگوں نے آشا کے ساتھ ستونوں پر نیا نقش کھودا: “ہم آسانی مانگتے ہیں، مگر یاد کی قیمت پر نہیں۔ ہم روشنی چاہتے ہیں، مگر سایہ جان کر۔” اس دن سے کنارہ کے بچوں کو سکھایا گیا کہ جب بھی نئی آواز آئے، پہلے اس کا نام تین بار پوچھو، پھر اسے اپنے قرض دکھاؤ۔ اگر وہ ساتھ اٹھائے تو دوست ہے، اگر ہنستے ہنستے مڑ جائے تو سایہ ہے۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ ہر بستی میں نئی آوازیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ مگر کنارہ کے لوگ جان گئے کہ یاد کے ستون صرف مٹی نہیں، وہ راستہ بھی ہیں۔ اور جو راستہ اپنے گمشدہ ناموں کو ساتھ لے کر چلے، وہ جتنا بھی لمبا ہو، گھر کی طرف ہی جاتا ہے۔ کہتے ہیں تب سے گڑھنے والا پھر آیا تو ضرور، مگر وہ کبھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ اور آشا کی بات رہ گئی: “روشنی کو دیکھو، مگر اس کے کنارے سے دیکھو۔”

Ask for your own story