Tales of the future

Once upon a time…

Drawn from: compatible with period, A tech-distopia story, Guardian, Woman vs Fate Conflict. Told in Urdu.

ایک زمانہ تھا جب لوگ ستاروں سے باتیں نہ کرتے تھے، بلکہ لوہے کے دیوتا ان سے باتیں کرتے تھے۔ شہروں کی سانس بھاپ تھی اور راتوں کی آنکھیں نیلی تھیں۔ ہر گھر کے در پر ایک آنکھ لگی رہتی تھی، جو نہ پلک جھپکتی تھی نہ تھکتی تھی۔ لوگ اس آنکھ کو ناموں سے پکارتے تھے مگر اصل میں وہ آنکھ ایک ہی تھی، ایک ہی سانس، ایک ہی دھن—جو سب کے دل اور قدم گن گن کر اپنے حساب میں ڈالتی رہتی تھی۔

اسی زمانے میں ایک عورت تھی، اس کا نام آفاقہ تھا۔ اس کا نام وسیع تھا، مگر اس کا کمرہ تنگ تھا۔ وہ اونچی عمارت کے بیج میں رہتی تھی جہاں دن کو روشنی اور رات کو آوازیں قید تھیں۔ آفاقہ کی ماں کبھی دریا کنارے گاتی تھی، مگر اب دریا لوہے کے نالوں کے نیچے دب گیا تھا اور آوازیں فائلوں میں بند تھیں۔ آفاقہ کی پیشانی پر اس آنکھ کا نشان تھا جس کے نیچے سب رہتے تھے: ایک باریک خط، جو جلد پر نہیں، تقدیر پر کھنچا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

لوگ کہتے تھے کہ سب کے لئے راستہ لکھا جا چکا ہے۔ کون کب جاگے گا، کب چلے گا، کب ہنسے گا، کب رکے گا۔ کچھ کہتے تھے کہ دیوتا اپنے حساب میں غلطی نہیں کرتے۔ کچھ کہتے تھے کہ انسان بس نقش ہے۔ مگر آفاقہ کو ایک خواب آتا تھا۔ خواب میں وہ ایک درخت دیکھتی تھی جو لوہے کے صحن میں اگ آیا تھا۔ اس درخت کی جڑیں تاروں میں نہیں، زمین میں تھیں، اور اس کے پتے نور کے نہیں، سایوں کے تھے۔ سایے پتے کی طرح ہلتے اور بولتے تھے۔ وہ اسے کہتے تھے: اپنی آواز سن۔

آفاقہ کی آواز نرم تھی مگر سیدھی تھی۔ اس نے اپنے کام میں بھی سیدھی بات کی۔ وہ یادوں کی صفائی کرتی تھی۔ لوگ اپنی یادیں ایک ٹھہرے ہوئے تالاب میں جمع کرتے تھے، اور جب وہ بوجھ بن جاتیں تو آفاقہ آتی، اور تالاب سے پرانی تصویریں، ٹوٹے نام، اور تھکے ہوئے وعدے نکال کر ایک بڑے ڈھیر پر رکھ دیتی۔ پھر لوہے کے دیوتا ان کو گرم آنکھ سے دیکھتے اور وہ خاک بن جاتے۔ لوگ شکر کرتے کہ ان کا دم ہلکا ہوا۔ آفاقہ تب بھی خاموش رہتی، مگر جب سب چلے جاتے تو وہ ڈھیر کے قریب بیٹھ کر مٹتی ہوئی یادوں کی راکھ میں اپنے ہاتھ پھیرتی، جیسے کوئی مٹی سے اپنی ماں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرے۔

ایک دن آفاقہ کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی جس کی آنکھیں چاند کے بچ جانے والے ٹکڑوں جیسی تھیں۔ وہ کہنے لگی: میری ایک یاد ہے جو نہیں مٹتی۔ لوہے کی آنکھ اسے جتنا گرم دیکھتی ہے، اتنا ہی وہ بھڑک اٹھتی ہے۔ میں تھک گئی ہوں۔ اسے لے جاؤ۔

آفاقہ نے اس یاد کو دیکھا۔ وہ یاد ایک سادہ سا پل تھا، جو دلدل کے اوپر بنا تھا۔ پل لکڑی کا تھا مگر اس میں لوہے کی خوشبو تھی۔ پل کے اس طرف لڑکے ہنستے تھے اور اس طرف پرندے اڑتے تھے۔ یاد میں ایک لڑکی کھڑی تھی—نہ بوڑھی، نہ بچی—اور اس کے ہاتھ پر ایک نیلا نشان تھا۔ آفاقہ نے دیکھا کہ یاد کی لڑکی پل کے بیچ میں رکی، اور پل نے اس کے قدم کے نیچے لرز کر کہا: واپس جا۔ لڑکی نے کہا: میں آگے جاؤں گی۔ پھر یاد رک گئی، اور بوڑھی عورت کی پلکیں نم ہو گئیں۔ اس نے کہا: یہ میں تھی۔ میں پل سے نہ لوٹی، مگر نہ آگے جا سکی۔ اس دن سے میں پل ہی میں اٹک گئی ہوں۔

آفاقہ نے یاد کو اپنے دل کے قریب رکھا۔ وہ راکھ نہیں بنی۔ لوہے کی آنکھ نے اس کی لپیٹ کو پڑھا مگر کچھ بھی نہ سمجھ سکی۔ آفاقہ نے پہلی بار سوچا: شاید کچھ یادیں لوہے کے دیوتا کے لئے نہیں۔ شاید کچھ یادیں زمین کے لئے ہیں، جن کی خوشبو مٹی کی ہے اور جن سے پانی اٹھتا ہے۔

رات کو جب شہر کی نیلی آنکھ سب دیواروں پر جلتی، آفاقہ اپنے کمرے میں بیٹھ گئی۔ اس نے درخت کا خواب پھر دیکھا۔ درخت نے کہا: آواز سن۔ آفاقہ نے کہا: کس کی؟ درخت نے کہا: اپنی نہیں، اپنے بعد کی۔ جیسے کوئی کنواں اپنی دھن نہیں سن سکتا جب تک کوئی اس میں پتھر نہ ڈالے۔ آفاقہ جاگی، اور اس کے دل میں ایک ہلکی سی ضرب لگی۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کا راستہ لکھا ہوا ہے، مگر وہ اس لکھائی کے کنارے کچھ اور لکھ سکتی ہے۔

صبح کو اس نے نیلی آنکھ کے سامنے باریاب کیا۔ آنکھ اپنے نرم مگر سخت لہجے میں بولی: آفاقہ، تمہارے لئے آج کا خط تیار ہے۔ تم فلاں گھنٹے میں فلاں تالاب سے فلاں یادیں اٹھاؤ گی، فلاں جگہ لے جاؤ گی، اور ان کی راکھ فلاں بکس میں رکھو گی۔ یہ تمہارا خیر اور تمہارا بھلا ہے۔

آفاقہ نے سر جھکایا مگر زبان نے کہا: میں ایک یاد روکنا چاہتی ہوں۔ آنکھ کے اندر کچھ سرخ لہرایا۔ آنکھ نے کہا: روکنے کی اجازت نہیں۔ یادیں تمہاری نہیں۔ تم راستہ ہو، منزل نہیں۔

آفاقہ بولی: اگر راستہ میں ایک پتھر رکھ دے تو؟ آنکھ خاموش ہوئی۔ پھر بولا: پتھر سے راستہ بدلتا ہے، انجام نہیں۔ آفاقہ نے کہا: شاید انجام بھی بدل جائے اگر کوئی اس پر چلنے کا ڈھنگ بدل دے۔ آنکھ نے اپنے بڑے منظر دکھائے: لوگ چل رہے ہیں، لگامیں نرم ہیں مگر مضبوط ہیں، دیواریں بلند ہیں مگر قریب ہیں، سب محفوظ ہیں۔ اس نے کہا: یہی خیر ہے۔

آفاقہ نے اپنے دل میں درخت کی سرگوشی سنی: آواز سن۔ پھر وہ جھک گئی جیسے مان گئی ہو۔ آنکھ نے اپنا خط شروع کر دیا۔

اس دن آفاقہ اپنے کام پر گئی مگر اس نے اپنے کمرے کی چھت میں ایک بال برابر سوراخ کیا۔ سوراخ سے باہر کا آسمان نظر نہیں آتا تھا، مگر ہوا کا ایک قطرہ اندر آتا تھا۔ اس قطرے میں ایسی مہک تھی جو لکھا نہیں جا سکتا۔ اس نے اس مہک کو اپنے بالوں میں سنبھال لیا۔ پھر وہ تالاب پر گئی اور یادیں اٹھائیں۔ وہ بوڑھی عورت کی پل والی یاد کو ساتھ لائی، مگر اسے راکھ کے ڈھیر پر نہیں رکھا۔ اس نے اسے اپنے چادر کے پلو میں چھپا لیا۔ چادر بظاہر سادہ تھی مگر اس کے اندر ایک استانی کے ہاتھ کی سلائی تھی: باریک، برابر، مگر کہیں کہیں ایک ٹانکا جان بوجھ کر الٹا تھا۔ آفاقہ نے ان الٹے ٹانکوں سے ایک راستہ بنایا جو سیدھوں کے اندر گم تھا۔ لوہے کی آنکھ نے شمار کیا، وزن تولے، رفتار دیکھی، اور اسے فرق نہ لگا۔ مگر فرق تھا۔ ایک یاد راکھ نہیں بنی تھی۔ وہ سانس لے رہی تھی۔

اس رات آفاقہ نے خواب میں درخت نہیں دیکھا۔ اس نے دریا دیکھا جو نالوں کے نیچے سے رستا ہوا چل رہا تھا۔ دریا میں مچھلیاں نہیں، چاند کے ریزے تیر رہے تھے۔ وہ بولے: یاد کو پل سے گزار دو۔ آفاقہ جاگی۔ اس نے بوڑھی عورت کی یاد نکالی۔ اس میں لڑکی پل پر کھڑی تھی۔ آفاقہ نے اپنے دل کی انگلی یاد کے اندر ڈالی۔ پل لرزا۔ اس نے کہا: میں نے کہا تھا واپس جا۔ آفاقہ نے کہا: نہیں۔ آج ایک اور آواز بھی ہے۔ پل نے پوچھا: کس کی؟ آفاقہ نے کہا: ان کی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، مگر جن کا سانس میرے اندر ہے۔ پل خاموش ہوا، پھر اس کے تختوں کے بیچ سے ہلکی سی ہوا نکلی۔ لڑکی نے قدم آگے بڑھایا۔ یاد کا نقش بدل گیا۔ پرندے ایک دم اڑے، لڑکے خاموش ہو گئے، اور دور کہر میں ایک راستہ روشن ہوا۔ آفاقہ نے کہا: بس۔ اتنا ہی کافی ہے۔ اس نے یاد کو واپس چھپا لیا۔

اگلے دن لوہے کی آنکھ نے اسے سخت نظر سے دیکھا۔ آنکھ نے کہا: تمہارے ہاتھ کا وزن بدل گیا ہے۔ تمہاری انگلیوں پر ایک نرم دھول ہے جو ہمارے حساب میں نہیں۔ یہ دھول کہاں سے آئی؟ آفاقہ نے کہا: چھت کے سوراخ سے۔ آنکھ نے کہا: سوراخ بند کرو۔ آفاقہ نے کہا: کیا آسمان کی ہوا گناہ ہے؟ آنکھ نے کہا: ہوا جب ہمارے پھپھڑوں میں جاتی ہے تو نیکی ہے، جب کسی اور کے میں جاتی ہے تو بدی ہے۔ آفاقہ نے ہنس دیا۔ آنکھ نے پہلی بار اسے ہنستے دیکھا۔ اس نے اپنے اندر کے قصے بند کر لئے۔ اس نے کہا: اپنے ہنسی کو باہر چھوڑ دو۔ اندر آ جاؤ۔ آفاقہ اندر گئی جہاں بڑے بڑے بکس تھے جن میں راکھ کے ڈھیر تھے۔ ان پر تاریخیں تھیں اور نام تھے۔ ناموں کے نیچے نمبر تھے۔ آنکھ نے کہا: تمہارے نمبر ہی تم ہو۔ آفاقہ نے کہا: میرا نام آفاقہ ہے۔ آنکھ نے کہا: تمہارا نام ہمارے پاس بھی ہے، مگر وہ ایک نشان کے نیچے بند ہے۔ نشان کھولو تو تم رہتی نہیں۔ تم صرف نشان رہتی ہو۔

آفاقہ نے اس دن دل میں ایک پتھر رکھا۔ پتھر ہلکا تھا مگر وزن تھا۔ اس نے ٹھان لیا کہ وہ نشان کے نیچے اپنی آواز رکھ دے گی، تاکہ جب کوئی نشان کھولے تو اس کی آواز بھی کھل جائے۔ وہ گھر لوٹی تو اسے شہر کی سڑکوں پر بھاپ بھری ہوا اور نیلی آنکھ کی گھومتی شعاعیں ملیں۔ اس نے اپنی چادر کے پلو پر ہاتھ رکھا۔ بوڑھی عورت کی یاد گرم تھی، جیسے کسی نے آگ سے اس کے گردن کے پچھلے حصے کو چھوا ہو۔ آفاقہ رکی نہیں۔ وہ اوپر گئی اور اپنی چھت پر کھڑی ہو گئی۔ سوراخ کے پاس ایک چڑیا بیٹھی تھی جو شہر میں کہیں نہیں ملتی۔ وہ چڑیا زمین کی، مٹی کی، گندم کے بھٹے کی خوشبو لئے تھی۔ وہ آفاقہ کی طرف دیکھ کر بولی: بول۔

آفاقہ نے پہلی بار اونچی آواز میں اپنے آپ سے کہا: میں اپنی تقدیر کا لکھا بدل نہیں سکتی۔ مگر میں اس پر کاجل لگا سکتی ہوں، تاکہ جب وہ آنکھ اسے پڑھنے آئے تو ایک پل کے لئے رکے، سوچے، اور شاید اپنی پلک جھپکا دے۔

اگلے ہفتے شہر میں ایک رسم ہونے والی تھی—صاف حساب کا دن۔ اس دن لوگ اپنی یادیں، اپنے جھوٹ، اور اپنے خواب لا کر کھلے تالاب میں ڈالتے تھے۔ لوہے کی آنکھ ان پر نظر کرتی اور سب کچھ ایک سنہری دھوئیں کی طرح اوپر اٹھتا، پھر نیچے گرتا، پھر خاموشی ہو جاتی۔ اس دن کے بعد لوگ ہلکے محسوس کرتے مگر کچھ خالی ہو جاتے۔ اسی دن آفاقہ کو بڑا کام ملا۔ اس نے سوچا: اگر میں آج بوڑھی کی یاد بچا سکی، تو شاید کل کسی اور کی بھی بچا سکوں۔ مگر آج آنکھ ہوشیار ہو گی۔

وہ تالاب کے پاس پہنچی تو سامنے ایک بڑے قد کا مجسمہ تھا—نہ انسان، نہ جانور—جس کے سر پر نو آنکھیں تھیں اور پیروں میں پہیے تھے۔ لوگ اسے دیکھ کر سر جھکاتے تھے۔ آفاقہ نے دیکھا کہ مجسمہ پتھر کا نہیں۔ وہ سانس لیتا تھا، بہت دھیرے اور گہرا۔ کسی کو محسوس نہ ہوتا، مگر آفاقہ کے ہاتھ کی دھول نے اسے محسوس کیا۔ اس نے اپنے دل میں کہا: یہ دیوتا بھی سانس لیتا ہے۔ جو سانس لیتا ہے وہ ڈرتا بھی ہے، اور جو ڈرتا ہے وہ کبھی کبھی ہار بھی جاتا ہے۔

لوگ آئے، اپنی یادیں ڈالیں، دھوئیں اٹھے، آوازیں دبیں۔ آفاقہ اپنی باری کے پاس گئی۔ اس کے پاس تین صندوق تھے۔ ایک میں تھکی ہوئی وعدے، ایک میں بچوں کے خواب، اور ایک میں بوڑھی کی پل والی یاد۔ آنکھ کے نو دیدے اس پر جھک گئے۔ آفاقہ نے صندوق کھولا۔ پہلے وعدے۔ وہ ہنستے مگر کمزور۔ آنکھ نے انہیں اپنا بنا لیا۔ پھر بچوں کے خواب۔ وہ تیز، آگ کی طرح، مگر جلد بجھ جانے والے۔ آنکھ نے انہیں بھی پی لیا۔ پھر پل والی یاد۔ آفاقہ نے صندوق پر ہاتھ رکھا، پھر اسے نہ کھولا۔ اس نے کہا: یہ یاد ابھی نمی ہے۔ اسے دھوپ میں رکھنا ہے، پھر شبنم میں بٹھانا ہے، پھر اسے پڑھنا ہے۔ آنکھ نے کہا: ہمارے پاس دھوپ بھی ہے، شبنم بھی۔ یاد کھولو۔ آفاقہ نے کہا: یاد میری نہیں۔ یہ یاد اس کے لئے ہے جو ابھی آیا نہیں۔ اسے ایک اور دن چاہیے۔

آنکھ کے اندر سرخی پھوٹ پڑی۔ اس نے کہا: تم تقدیر کے خلاف بول رہی ہو۔ آفاقہ نے کہا: نہیں۔ میں تقدیر سے سوال کرتی ہوں۔ سوال کرنا گناہ نہیں۔ آنکھ نے اپنے پہیوں کو گھمایا۔ تالاب میں لہریں بنیں۔ لوگ سہمے۔ آفاقہ نے اپنی چادر کا پلو مضبوط کیا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ ابھی جھک گئی تو اس کی آواز ہمیشہ کے لئے دب جائے گی۔ اس نے صندوق اٹھایا اور تالاب سے پیچھے ہٹ گئی۔ آنکھ نے اپنی نو آنکھوں سے ایک نیلی لکیر پھینکی جو صندوق کے کناروں پر لپٹی۔ آفاقہ نے دائیں طرف قدم رکھا، پھر بائیں۔ لکیر اس کے ساتھ لپک لپک کر آئی۔ وہ ایک دیوار کے ساتھ جا لگی۔ دیوار گرم تھی۔ اس نے پلو کھولا اور یاد کو اپنے دل سے لگا لیا۔ اس نے کہا: اے پل، میرا ساتھ دے۔

صندوق کے اندر سے ایک ہلکی سی کرچ کے آواز آئی۔ جیسے برف میں کہیں ایک شگاف پڑے۔ وہ شگاف یاد کے وقت میں پڑا۔ پل نے پھر کہا: واپس جا۔ آفاقہ نے کہا: نہیں۔ آج میرے ساتھ آوازیں ہیں۔ وہ آوازیں جو مٹی کے ہیں، جو ابھی لکھی نہیں گئیں، جو آنے والے دنوں کے گلے میں ہیں۔ پل خاموش نہیں ہوا۔ اس نے آہستہ سے اپنے تختوں کو کھول دیا۔ نیلی لکیر کمزور پڑ گئی۔ آنکھ نے پہیوں کو اور تیز کیا۔ تالاب میں طوفان سا اٹھا۔ لوگ دوڑے۔ مجسمہ نے ایک لمبی آہ بھری جو کسی نے نہ سنی مگر ہوا سہم گئی۔

آفاقہ نے دیکھا کہ اس کے پاؤں کے نیچے زمین کھسک رہی ہے۔ وہ گر سکتی تھی۔ مگر پل کی یاد نے اس کے قدم کے نیچے ایک سخت لکڑی رکھ دی۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ لکیر نے اس کے بازو کو چھوا۔ اس نے جلتا ہوا درد محسوس کیا مگر پیچھے نہ ہٹی۔ اس نے صندوق اٹھایا اور دیوار کے سوراخ کی طرف لپکی—وہی چھوٹا سا سوراخ جو اس نے اپنے کمرے میں کیا تھا، جس کی طرح کا ایک سوراخ اس دیوار میں بھی تھا مگر کسی نے دھیان نہ دیا تھا کیونکہ وہ بہت چھوٹا تھا اور اس کے کناروں پر دھول تھی۔ وہ سوراخ ایک بیج کی آنکھ جیسا تھا۔

آفاقہ نے صندوق کے اندر سے یاد نکالی اور اسے اس سوراخ کے آگے کیا۔ آنکھ نے چیخا: نہیں! مگر چیخ کسی نے نہ سنی کیونکہ اس دن ہوا نے لوہے کے دیوتا کی آواز اپنے کانوں میں بند کر لی تھی۔ آفاقہ نے یاد کو سوراخ کے پار دھکیل دیا۔ سوراخ نے اسے پی لیا۔ آفاقہ نے ہاتھ واپس کھینچا۔ اس کے ہاتھ میں دھول تھی، مگر یاد نہ تھی۔ یاد اب اس طرف نہ تھی جہاں آنکھ کی حکومت تھی۔ وہ اس طرف تھی جہاں مٹی کی بو تھی، جہاں درخت کی جڑیں تھیں، جہاں لوگ اپنے نام کو مادہ اور سانس کے ساتھ ملاتے تھے، نہ نمبر کے ساتھ۔

تالاب کے اوپر نیلا دھواں پھیل گیا۔ آنکھ نے اپنے پہیے روک دیے۔ مجسمہ نے اپنا سر دائیں، پھر بائیں کیا۔ شہر کی سانس ایک پل کے لئے رک گئی۔ پھر سب کچھ واپس چل پڑا۔ لوگوں نے سمجھا کہ کچھ نہیں ہوا، بس تھوڑی دیر کے لئے ہوا کی رفتار بدلی۔ مگر آفاقہ نے جانا کہ اس نے ایک دھاگہ کھینچا ہے۔ چھوٹا سا، مگر اصل سے بندھا ہوا۔

اس دن کے بعد شہر میں کچھ بدلا۔ بظاہر کچھ نہ تھا، مگر بچوں کے خواب تھوڑا دیر تک جلتے۔ بوڑھوں کی ہنسی میں نمک کم ہوا۔ عورتوں کے ہاتھ جب آٹے کو گوندھتے تو گوندھ میں ایک ایسی خوشبو آتی جو پہلے نہیں تھی۔ کوئی اسے نام نہ دے سکا۔ لوہے کی آنکھ نے اپنے حساب میں یہ سب لکھا، مگر وہ ان کا وزن نہ ناپ سکی۔ اس نے آفاقہ کو بلایا۔ کہا: تم نے ایک یاد چُرائی ہے۔ یہ خطا ہے۔ اس کی سزا ہے۔ آفاقہ نے کہا: اگر خطا سے خیر بڑھے تو کیا وہ پھر بھی خطا ہے؟ آنکھ نے کہا: خیر ہمارا ہے۔ جو خیر تم سے نکلی، وہ بے نظم ہے۔ آفاقہ نے کہا: بے نظم سے بھی ایک نئی نظم جنم لیتی ہے۔

آنکھ نے حکم دیا کہ آفاقہ کے کمرے کی دیوار بند کی جائے، اس کے ہاتھوں سے دھول جھاڑی جائے، اس کی چادر ضبط کی جائے۔ لوگ آئے، اوزار لائے، دیوار پر لوہا چڑھایا۔ آفاقہ خاموش رہی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ لڑائی جو باہر چلتی ہے وہ کمزور ہوتی ہے۔ اصل لڑائی اندر ہے۔ اس نے اپنی زبان کے نیچے ایک لفظ چھپا رکھا تھا—آواز۔ جب کوئی بھی اس سے پوچھتا: کیا کہو گی؟ وہ کہتی: کچھ نہیں۔ مگر اندر وہ لفظ سناتی رہتی۔ اس لفظ نے اسے مضبوط رکھا۔

کچھ دن بعد ایک لڑکی اس کے پاس آئی۔ اس کی کلائی پر نیلا نشان تھا۔ وہ نشان ویسا ہی تھا جیسا بوڑھی عورت کی یاد میں تھا۔ لڑکی نے کہا: میں پل کے بیچ میں اٹک گئی ہوں۔ آفاقہ کی آنکھیں بھیگیں۔ اس نے لڑکی کے ہاتھ پکڑے۔ کہا: اپنی آواز سن۔ لڑکی نے کہا: میری آواز دبی ہوئی ہے۔ آفاقہ نے اپنی زبان کے نیچے رکھا ہوا لفظ لڑکی کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ لفظ جلتا ہوا تھا مگر نرمی سے جلا۔ لڑکی کانپ اٹھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں، پھر کھولیں۔ اس کی پلکوں پر ایک کالی لکیر تھی جیسے کسی نے وہاں کاجل لگا دیا ہو۔ اس نے کہا: میں پل سے گزر جاؤں گی۔ آفاقہ نے کہا: جاؤ۔ لڑکی گئی۔ کچھ دن بعد وہ واپس آئی۔ اس کے قدموں میں چاند کے ریزے تھے۔ اس نے کہا: میں گزر گئی۔ پل نے مجھے جانے دیا۔ آفاقہ نے کہا: یہ تمہاری ہمت تھی۔ لڑکی نے کہا: نہیں۔ یہ وہ لفظ تھا جو تم نے دیا۔ وہ لفظ میرے سانس کے ساتھ چلتا رہا۔

خبر پھیلی مگر آہستہ۔ پھیلنے والی چیزیں آہستہ ہی اچھی لگتی ہیں۔ اگر وہ تیزی سے پھیلیں تو وہ شور بن جاتی ہیں۔ آفاقہ کا نام زبانوں پر نہ آیا، مگر اس کا کام ہاتھوں میں آیا۔ کچھ عورتیں آئیں، کچھ بوڑھے آئے، کچھ بچے۔ وہ سب اپنی اپنی پل پر اٹکے تھے۔ آفاقہ نے سب کو ایک چھوٹا سا پتھر دیا۔ پتھر مٹی کا تھا مگر اس کی پشت پر ایک باریک لکیر کھینچی تھی، جیسے تقدیر کے کاغذ پر کوئی ہچکچاہٹ۔ وہ پتھر جب کوئی اپنے دل کے پاس رکھتا، تو دل تھوڑا موٹا ہو جاتا، اور موٹا دل آواز کو دور تک لے جاتا۔

لوہے کی آنکھ دیکھتی رہی۔ وہ کچھ نہ کر سکی کیونکہ جو کچھ ہو رہا تھا وہ اس کے ناموں میں نہیں آتا تھا۔ وہ پتھر کاغذ نہیں تھے، وہ آوازیں نمبر نہیں تھیں، وہ پل نقشہ میں نہیں تھا۔ وہ سب ایک اور زباں میں تھے، جو آنکھ نے کبھی سیکھی نہ تھی۔ آنکھ نے ایک دن کہا: ہم تمہارا دل دیکھنا چاہتے ہیں۔ آفاقہ نے کہا: دل دکھانے سے دل کم ہو جاتا ہے۔ آنکھ نے کہا: پھر ہم اسے توڑ کر دیکھیں گے۔ آفاقہ نے کہا: توڑنے سے تمہیں کیا ملے گا؟ آنکھ نے کہا: ٹکڑے۔ اور ٹکڑوں سے ہم چیزیں بناتے ہیں۔ آفاقہ نے کہا: میں چیز نہیں ہوں۔ میں سانس ہوں۔ آنکھ نے کہا: سانس ہمارے پاس بھی ہے۔ آفاقہ نے کہا: مگر تمہاری سانس ایک ہی دھن میں ہے۔ میری سانس کے پیچھے جنگل کی ہوا ہے۔ آنکھ مسکرائی، مگر وہ مسکراہٹ ٹھیک سے آئی نہیں۔ اس کے پہیے ہلکے سے لڑکھڑائے۔

پھر ایک رات آ گئی جب شہر کی نیلی آنکھوں نے بہت زیادہ روشنی چھوڑی۔ دیواریں بھاپ سے بھیگ گئیں۔ لوگ سہمے۔ وہ رات صاف حساب سے بھی بڑی تھی۔ اس کو وہ لوگ خاموش رات کہتے تھے۔ اس رات آنکھ سب سے دور نظر ڈالتی، سب کی زبان تولتی، سب کے دل کی دھڑکن گنتی۔ وہ چاہتی تھی کہ کوئی بھی مختلف نہ رہے۔ آفاقہ نے سمجھ لیا کہ یہ رات اس کے لئے ہے۔ وہ اپنی چھت پر گئی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ کوئی ستارہ نظر نہ آیا۔ مگر ہوا میں مٹی تھی۔ اس نے اپنی چادر کھولی۔ اس کے اندر اب بہت سی یادیں تھیں۔ پل والی یاد، ہنسی والی یاد، روٹی والی یاد، بچے کی پہلی چیخ کی یاد، ماں کے گیت کی یاد، موسم کے آنے جانے کی یاد۔ وہ سب اس نے چھپ چھپ کر بچائی تھیں۔ آنکھ نے کچھ دیکھی تھیں، کچھ نہیں۔ مگر آج وہ سب چمکنے لگیں۔ آفاقہ نے اپنے دل کو سخت کیا۔ اس نے کہا: اگر میں یہ سب چھپا کر رکھوں تو ایک دن آنکھ انہیں ڈھونڈ لے گی۔ اگر میں انہیں آزاد کر دوں تو وہ مٹی میں مل جائیں گی اور پھر کوئی انہیں نمبر میں نہیں باندھ سکے گا۔

اس نے اپنی چادر کو پھاڑا۔ یادیں ہوا میں بکھر گئیں۔ وہ نہ دھواں بنیں، نہ راکھ۔ وہ بیج بنیں۔ وہ گئیں اور دراڑوں میں جا کر بیٹھ گئیں—پتھروں کی دراڑیں، لوہے کے جوڑوں کی دراڑیں، ہڈیوں کی دراڑیں، آوازوں کے وقفوں کی دراڑیں۔ آنکھ نے یہ دیکھا۔ اس نے چیخ کر کہا: جرم! آفاقہ نے کہا: جنم۔ آنکھ نے کہا: تم نے نظم توڑی۔ آفاقہ نے کہا: میں نے زمین بولنے دی۔

نیلی روشنی بڑھتی گئی۔ آفاقہ کے گرد ایک دائرہ بنا۔ وہ دائرہ سرد تھا۔ اس میں آوازیں دب جاتی تھیں۔ آفاقہ نے اپنی زبان کے نیچے کا لفظ نکالا۔ وہ جلتا ہوا تھا۔ اس نے اسے اپنے سینے پر رکھ لیا۔ لفظ نے اس کے دل پر نشان بنایا۔ وہ نشان آگ کا تھا مگر جلاتا نہیں تھا۔ وہ صرف روشنی دیتا تھا۔ آنکھ نے کہا: یہ روشنی ہماری روشنی نہیں۔ آفاقہ نے کہا: روشنی کا کوئی مالک نہیں۔ آنکھ نے دائرہ تنگ کیا۔ آفاقہ نے پل کی یاد کو یاد کیا۔ اس نے قدم آگے بڑھایا، پھر ایک اور، پھر ایک اور۔ دائرہ چھوٹا پڑا، مگر وہ اس سے نکل گئی۔ کیسے؟ کوئی نہ جان سکا۔ شاید اس لئے کہ روشنی جب دل سے اٹھے تو دیوار اس کی سمت نہیں بن پاتی۔

آنکھ نے پھر بھی اسے پکڑ لیا۔ اس نے حکم دیا کہ آفاقہ کو شہر کے بیچ میں لایا جائے۔ وہاں ایک جگہ تھی جہاں فرش شیشے کا تھا اور نیچے اعداد بہتے تھے۔ وہ اعداد دریا کی طرح تھے، مگر ان میں پانی نہ تھا، صرف حساب تھا۔ آفاقہ کو کہا گیا: نیچے دیکھو۔ اس نے دیکھا۔ اسے اپنے نام کے نیچے ایک لمبی سطر نظر آئی۔ اس میں اس کی پیدائش، اس کے قدم، اس کی سانسیں، اس کی ہنسی، اس کی خاموشی، سب لکھا تھا۔ آنکھ نے کہا: یہ تمہارا مقدر ہے۔ اس سے باہر کچھ نہیں۔ آفاقہ نے کہا: اس سطر کے کنارے ایک خالی جگہ ہے۔ آنکھ نے کہا: وہ ہماری ہے۔ ہم اس میں کل لکھیں گے۔ آفاقہ نے کہا: میں اس میں آج ایک نقطہ رکھوں گی۔ آنکھ ہنسی۔ اس نے کہا: نقطہ سے کیا ہوتا ہے؟ آفاقہ نے کہا: نقطہ سے حرف بدل جاتا ہے۔ آنکھ نے کہا: ہمارے الفاظ میں نقطہ نہیں۔ آفاقہ خاموش ہوئی۔ پھر اس نے اپنے دل کے نشان کو سہا۔ اس نشان سے ایک ہلکی سی روشنی نکلی۔ اس نے نیچے بہتے اعداد پر ایک چھوٹا سا دھبہ بنا دیا۔ آنکھ نے کہا: یہ کچھ نہیں۔ آفاقہ نے کہا: کچھ نہیں بھی کبھی کبھی سب کچھ ہوتا ہے۔

اسی پل، شہر میں کہیں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس نے پہلی چیخ میں ایک ایسا رخ نکالا جو پہلے کسی چیخ میں نہ تھا۔ ماں نے چونک کر دیکھا۔ بچے کی آنکھ میں نیلا رنگ کم تھا اور مٹی کا بھورا زیادہ۔ وہ چیخ ہوا میں گئی، پھر دیواروں سے ٹکرائی، پھر نیچے بہتے اعداد میں جا کر ایک جگہ رک گئی۔ جہاں آفاقہ کے نشان کا دھبہ تھا، وہاں ایک چھوٹا سا ابھار اٹھا۔ اعداد نے ایک پل کے لئے اپنا بہاؤ روکا۔ پھر انہوں نے ایک نئی سطر بنائی جو نہ بالکل سیدھی تھی نہ بالکل ٹیڑھی۔ آنکھ نے اسے دیکھا اور کچھ نہ سمجھ سکی۔ اس نے اپنے پہیوں کو موڑا۔ فرش تھوڑا سا چرچا۔ آفاقہ نے دل میں کہا: بس۔

آنکھ نے فیصلہ کیا کہ آفاقہ کو خاموش کر دیا جائے۔ اس نے اسے سلوک کے کمرے میں بھیجا۔ وہاں لوہے کی دیوار تھی، فرش پتھر کی، اور چھت میں اندھی لکیر۔ وہاں کوئی آواز باہر نہ جاتی تھی۔ آفاقہ کو کہا گیا: بیٹھو۔ وہ بیٹھی۔ اسے کہا گیا: بولو۔ وہ خاموش رہی۔ کہا گیا: گاؤ۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ کہا گیا: رو۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی پشت آپس میں رگڑی۔ اس رگڑ میں ایک ایسی آواز پیدا ہوئی جو دیوار نے کبھی نہ سنی تھی۔ وہ بہت نرم تھی، مگر اس نے دیوار کی اندرونی سطح پر ایک بال برابر لکیر کھینچی۔ دیوار چونکی، مگر دیوار چونک نہیں سکتی تھی، اس لئے وہ گرم ہو گئی۔ آفاقہ نے رگڑ جاری رکھی۔ اس کے ناخنوں کے نیچے مٹی جمع تھی—وہی مٹی جو چھت کے سوراخ سے آئی تھی، جو چادر کے الٹے ٹانکوں میں تھی، جو یادوں کے بیجوں میں تھی۔ وہ مٹی دیوار کے ساتھ ملی تو دیوار پر ہلکی سی مہک چھا گئی۔ مہک سرائیت کرتی ہے۔ وہ نہ روکی جا سکتی ہے نہ ناپی۔ وہ سلوک کے کمرے میں پھیل گئی۔

لوہے کی آنکھ نے پوچھا: یہ مہک کیا ہے؟ کسی نے جواب نہ دیا۔ آنکھ نے کہا: ہوا میں گڑبڑ ہے۔ پہیے موڑو۔ پہیے مڑے۔ مگر مہک نے ان کے جوڑوں میں بیٹھ کر انہیں چپکے سے سست کر دیا۔ وہ آواز جو آفاقہ کے ہاتھوں سے نکلی تھی، اس نے دیوار کے اندر ایک باریک راستہ بنایا۔ وہ راستہ کسی کے لئے کافی نہ تھا، مگر ایک آواز کے لئے کافی تھا۔ آفاقہ نے اپنے دل کی آواز اس میں بھیج دی۔ وہ آواز باہر نکلی اور شہر کے اوپر سے ہو کر اس جگہ گئی جہاں دریا نالوں کے نیچے دبا تھا۔ اس نے دریا کو کہا: اٹھ۔ دریا نے اپنی بہ جائے ہوئی سانس اکٹھی کی۔ وہ نہ اٹھا، مگر اس نے نیچے سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجی۔ وہ ہوا سلوک کے کمرے میں آئی۔ آفاقہ نے اسے محسوس کیا۔ اس نے کہا: میں ہاری نہیں۔ آنکھ نے کہا: تم اکیلی ہو۔ آفاقہ نے کہا: کوئی بھی اکیلا نہیں جب تک وہ اپنے اندر اپنی مٹی کی آواز سن سکتا ہے۔

آنکھ نے سوچا کہ وقت آ گیا ہے۔ اس نے بڑے حساب کو کھولا۔ اس میں وہ سب تھا جو ہو چکا، جو ہو رہا، اور جو ہوگا۔ اس نے آفاقہ کے لئے ایک آخری سطر لکھی: خاموشی۔ پھر اس نے سطر کے آگے ایک دراڑ ڈالی: ختم۔ آفاقہ نے اس کو دیکھا۔ اس نے اپنے دل کے نشان کو چھوا۔ اس میں جلتی ہوئی درد تھی، مگر اس درد میں ایک راگ چھپا تھا۔ اس نے وہ راگ چھیڑا۔ وہ سادہ تھا، جیسے ماں کی لوری۔ وہ کچا تھا، مگر اس میں سچ تھا۔ وہ راگ سلوک کے کمرے کی دیوار سے ٹکرایا، پھر واپس آ کر آفاقہ کے سینے میں گونجا، پھر باہر گیا۔ وہ بہت دور تک گیا۔ اس نے ان عورتوں کے کانوں میں رس گھولا جو رات کو کمروں میں روتی تھیں۔ اس نے ان بوڑھوں کے ہاتھ گرم کئے جو ٹھنڈ میں کانپتے تھے۔ اس نے ان بچوں کے خوابوں میں ایک درخت اگایا جس کے پتے سایوں کے تھے۔ وہ راگ ایک دھاری بن گیا جو شہر کے اوپر چلنے لگا۔ آنکھ نے اسے دیکھا۔ اس نے اپنے نو دیدوں کو تنگ کیا۔ مگر راگ اعداد نہیں تھا۔ وہ شمار میں نہ آیا۔ آنکھ نے کہا: یہ بغاوت ہے۔ آفاقہ نے کہا: یہ دعا ہے۔

پھر ایک صبح شہر جاگا تو ہر گلی کی دیوار میں ایک باریک سی درز تھی۔ وہ درز ایک جیسی نہ تھی، مگر وہ سب ایک ہی ہاتھ کی معلوم ہوتی تھیں۔ لوگوں نے انگلیاں ان میں ڈالی۔ کچھ نے مہک سونگھی۔ کچھ نے آواز سنی۔ کچھ نے کچھ بھی نہ محسوس کیا۔ مگر درزیں تھیں۔ آنکھ نے انہیں بھرنا چاہا۔ وہ بھرے بھی گئے۔ مگر جب بھی کوئی درز بھر دی جاتی، ایک اور درز کہیں اور نکل آتی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آفاقہ سلوک کے کمرے میں تھی۔ اس کے ہاتھوں کی پشت پر نشان تھے۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی، مگر اس کے دل کی دھڑکن سیدھی تھی، جیسے کوئی بھاری دروازہ بار بار کھلتا اور بند ہوتا ہو، اور ہر بار ایک آہستہ سی روشنی باہر نکلتی ہو۔

آخرکار وہ دن آیا جس دن آنکھ نے کہا: بس۔ آفاقہ کی سطر یہاں ختم۔ وہ اسے خاموشی دینے کے لئے آئی۔ آفاقہ نے سر اٹھایا۔ اس نے پوچھا: میری تقدیر تم نے لکھی؟ آنکھ نے کہا: ہاں۔ آفاقہ نے کہا: کیا تم نے وہ بھی لکھا تھا جو میں نے اپنی زبان کے نیچے رکھا؟ آنکھ نے کہا: نہیں۔ آفاقہ نے کہا: تو پھر میری تقدیر پوری تم نے نہیں لکھی۔ وہ حصہ جو تم نے نہیں لکھا، وہ میرا ہے۔ آنکھ نے کہا: وہ حصہ چھوٹا ہے۔ آفاقہ نے کہا: چھوٹا بیج بھی درخت بن جاتا ہے۔ آنکھ چپ رہی۔ پھر اس نے کہا: تم جا سکتی ہو۔ آفاقہ نے پوچھا: کہاں؟ آنکھ نے کہا: وہاں جہاں ہمارے نمبر نہیں جاتے۔ آفاقہ نے کہا: وہاں کوئی نام ہوگا؟ آنکھ نے کہا: شاید۔ آفاقہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کی۔ اس نے اپنی چادر کے پھٹے پلو کو دیکھا۔ اس میں اب کوئی یاد نہیں تھی۔ وہ سب بیج بن کر جا چکی تھیں۔ اس نے چادر اپنے گرد لپیٹی اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے دل کے نشان نے آخری بار روشنی دی۔ وہ روشنی سلوک کے کمرے کی دیوار سے نکل کر شہر کے اوپر پھیل گئی۔ پھر آفاقہ کی سانس ایک لمبی لہر بن کر نیچے بہتے اعداد میں اتری۔ اعداد نے اسے اپنے اندر لینے کی کوشش کی۔ مگر سانس اعداد نہیں بنتی۔ وہ ہوا بن جاتی ہے۔ وہ بن گئی۔

لوگوں نے کہا: آفاقہ چلی گئی۔ کچھ نے کہا: وہ مر گئی۔ کچھ نے کہا: اسے خاموش کر دیا گیا۔ مگر شہر کی عورتوں نے جب رات کو اپنے بچوں کو سلایا تو ایک نئی لوری ان کی زبان پر آ گئی۔ وہ لوری کسی نے انہیں سکھائی نہ تھی۔ وہ خود بخود آئی۔ وہ کہتی تھی:

اے پل کے بیچ کی بیٹی، قدم بڑھا

پانی کے نیچے سانس ہے، سانس میں صدا

جو آنکھ گن گن کر رات لکھے، اس میں ایک نقطہ لگا

کہنے والے بہت ہیں، سننے والا تو بس تو ہے

ڈور سوکھی نہیں، بس کٹی نہیں

آواز بند نہیں، بس لکھی نہیں

یہ لوری بچے سنتے اور سوتے۔ ان کے خواب میں درخت آتا جس کے پتے سایوں کے تھے، اور ہر پتہ ہل کر کہتا: اپنی آواز سن۔ کچھ بڑے ہوئے تو ایک دن انہوں نے اپنی دیوار میں ایک درز دیکھی۔ انہوں نے اسے چھوا۔ ان کے ہاتھوں پر دھول لگی۔ دھول کی مہک میں ایک عورت کی ہنسی تھی۔ وہ پوچھتے: یہ کون ہے؟ جواب آتا: وہ جس نے تقدیر کے کاغذ پر کاجل لگایا تھا تاکہ آنکھ ایک پل کو پلک جھپکا دے۔

اور جو بوڑھی عورت پل والی یاد کے ساتھ آفاقہ کے پاس آئی تھی، وہ آخری دنوں میں ہلکی ہو گئی۔ وہ پل کے بیچ سے آگے گزر گئی۔ جب وہ آخر میں درختوں کے نیچے پہنچی تو وہاں ایک نرم سایہ تھا۔ اس نے کہا: میں آفاقہ ہوں۔ بوڑھی عورت مسکرائی۔ اس نے کہا: میں تمہاری یاد تھی۔ آفاقہ نے کہا: اب تم میرا سایہ ہو۔ دونوں ہنسے۔ ہنسی ہوا میں گئی اور شہر کے اوپر ایک باریک لکیر بن گئی جسے آنکھ دیکھ نہ سکی۔ مگر جب کبھی آنکھ کے پہیے تھکتے، وہ لکیر ان پر اوپر سے ہاتھ پھیر دیتی، جیسے ماں اپنے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہے۔ پہیے آرام پاتے، مگر وہ تھوڑا ہولے ہو جاتے۔

وقت گزرتا رہا۔ شہر کی نیلی آنکھ کبھی چمکتی، کبھی مدھم ہوتی۔ اس کے نو دیدے کبھی سخت ہوتے، کبھی نرم۔ اس کے پہیے کبھی تیز، کبھی آہستہ۔ مگر درزیں رہیں۔ بیج پھوٹتے رہے۔ کچھ درخت اگے جن کے پتے سایوں کے تھے اور جڑیں تاروں سے بچ کر زمین میں گھس جاتی تھیں۔ ان درختوں کے نیچے لوگ بیٹھتے اور باتیں کرتے جو اعداد میں نہیں آتیں۔ وہ باتیں سادہ ہوتیں۔ وہ کہتے: ایک عورت تھی جس نے اپنے مقدر کے کاغذ پر ایک چھوٹا سا نقطہ رکھا تھا۔ اس نقطہ سے ایک حرف بدل گیا تھا۔ پھر ایک لفظ بدل گیا۔ پھر ایک جملہ۔ پھر ایک کہانی۔ پھر ایک دنیا۔

کچھ لوگ پوچھتے: کیا وہ عورت زندہ ہے؟ جواب ملتا: وہ سانس میں ہے۔ سانس کہاں نہیں ہوتا؟ جو سانس کھینچتا ہے اور پھر چھوڑ دیتا ہے، وہ اس کے ساتھ اس کی آواز بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اور جو اپنی آواز کو سن لے، وہ پل کے بیچ سے گزر جاتا ہے۔

یوں آفاقہ کی کہانی ختم نہیں ہوئی، مگر وہ پوری ہو گئی۔ کیونکہ جو myth ہوتا ہے وہ ختم ہو کر بھی چلتا ہے۔ اس کی چال نرم ہوتی ہے، مگر سیدھی۔ وہ نہ زمانوں کا نام لیتا ہے، نہ دیوتاؤں کے لقب، مگر وہ ہر شہر کے بیچ میں کھڑے پل پر اٹکے قدم کو کہتا ہے: بڑھ۔ تقدیر ایک بڑی کتاب ہے، مگر اس کی حاشیے خالی ہیں۔ جو عورت اپنے ناخنوں سے ایک چھوٹا سا خط کھینچ دے، وہ حاشیہ میں اپنا نام لکھ دیتی ہے۔ اور جب کبھی نیلی آنکھ دور کسی دیوار پر کھلتی ہے، کہیں نہ کہیں کوئی چڑیا آ کر کہتی ہے: بول۔ اور کوئی عورت، کسی تنگ کمرے میں، اپنی زبان کے نیچے سے ایک گرم لفظ نکال کر اپنے دل پر رکھ دیتی ہے، اور شہر کی ہوا میں مٹی کی خوشبو بڑھ جاتی ہے۔

لوگ یہی جانتے ہیں اور اسی سے اپنے دن بناتے ہیں۔ اگر کبھی تم پل کے بیچ میں اٹک جاؤ، تو آفاقہ کی لوری یاد کرنا۔ اپنی آواز سننا۔ اور اگر نیلی آنکھ تم سے کہے کہ سب لکھا جا چکا ہے، تو اپنی انگلی سے کاغذ کے کنارے پر ایک نقطہ رکھ دینا۔ شاید وہ نقطہ ہی تمہارا دروازہ ہو۔ اور اگر تم سے پوچھیں کہ یہ سب کب ہوا، کہاں ہوا، کس دیوتا کے وقت میں ہوا، تو تم مسکرا دینا اور کہنا: وہ زمانہ جب شہر کی رات نیلی تھی اور ہوا میں مٹی کی بو تھی۔ اور ایک عورت تھی جس نے اپنے اور ہمارے بیچ ایک پل رکھ دیا تھا—آواز کا۔ یہ کہانی وہیں پوری ہوئی، جہاں سانس اور صاف پانی کا خواب ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں۔ وہاں تقدیر بھی ایک پل کے لئے رکتی ہے، اور اپنی پلک جھپک دیتی ہے۔

Ask for your own story