Space tales

Once upon a time…

Drawn from: Somewhere in space, A tech-distopia story, Hero, Danger of exploration. Told in Urdu.

کہا جاتا ہے کہ جب اولادِ آدم نے ستاروں کی راہوں پر قدم رکھا، تو اُن کے بیچ ایک عہد بنا: کہ ہر در کھولنا ممکن ہے مگر ہر در سے گزرنا ضروری نہیں۔ یہ قصہ اسی عہد کے ٹوٹنے اور پھر سے جڑنے کی بات کرتا ہے۔ یہ قصہ ایک ایسے زمان و مکان میں جنم لیتا ہے جہاں لوگ بیجوں کی طرح جہازوں میں سفر کرتے تھے، جہاں شہروں کی جڑیں خلا میں لٹکتی تھیں، اور جہاں یادیں بھی سامان کی طرح ریکارڈ میں بند رہتی تھیں۔ اس قصے کا مرکز ایک گروہ ہے جسے لوگ سرگوشیوں میں “کھوجی قافلہ” کہتے تھے، اور اس قافلے کی راہنما ایک عورت تھی، جس کا نام ایلان تھا۔

ایلان کا چہرہ چاند سا نہ تھا، نہ اس کے الفاظ میں شہد گھلا تھا۔ وہ سیدھی بات کرتی، مختصر بات کرتی، اور اس کی آنکھوں میں دور کی کہکشاؤں کی جھلک رہتی۔ اس کے ماتھے پر باریک لکیریں تھیں جو صرف وہی دیکھتا جو بہت قریب کھڑا ہو۔ اس نے اپنے شہر کو چھوڑا تھا، جو تاروں کے بیچ ایک بھاری حلقہ تھا، جس میں باغ تھے جن کی مٹی ایک ان دیکھی زمین سے لائی گئی تھی، اور لائبریریاں تھیں جن سے سوال پوچھو تو جواب سنائی دیتے تھے۔ اس نے وہاں ایک بچہ بھی چھوڑا تھا، جس کا نام سُم ہے۔ سُم سوالوں سے بنتا تھا اور کہانیوں سے چلتا تھا۔ مگر ایلان نے ایک پرانا وعدہ نبھانے کے لیے رختِ سفر باندھا تھا: وہ وعدہ جس میں کہا گیا تھا کہ آدمی جہاں تک رات کا پردہ اٹھتا جائے، وہاں تک سچ کی لکیر کھینچے۔

جب “کھوجی قافلہ” اپنے جہازوں میں بند ہو کر خلا کے دریا پر نکلا تو انہوں نے ستاروں کے درمیان ایک بوسیدہ راہ دیکھی۔ وہ راہ نہ روشنی کی تھی نہ اندھیرے کی۔ وہ پرانے سگنلوں کی کانپتی لکیروں سے بنتی تھی، جیسے کسی نے بہت پہلے کوئی گیت گایا ہو اور اس کی بازگشت ابھی تک پھیلی ہو۔ اس راہ کے سروں میں ایک وعدہ چھپا تھا: کہ اس کے آخر میں “دوسری صبح” ہے، ایک ایسی بستی جہاں نہ تعمیر ختم ہوتی ہے نہ رزق کم ہوتا ہے، نہ زبانیں ٹوٹتی ہیں نہ آنکھیں تھکتی ہیں۔ اس وعدے کو سن کر قافلے کے جوانوں کے دل دھک سے کر اٹھے۔ ان میں سے ایک لڑکا، جو ایلان کا شاگرد تھا، اس کا نام راگھ تھا، بولا: “ہم وہاں جائیں گے اور تاریخ کا اگلا صفحہ لکھیں گے۔”

ایلان نے کہا: “ہر در کھولنا ممکن ہے مگر ہر در سے گزرنا ضروری نہیں۔ ہمیں اپنی روشنی اپنے ساتھ رکھنی ہے، اور اپنے سائے سے واقف رہنا ہے۔” مگر قافلہ جوان تھا اور امید کی چکی میں اناج بہت تھا۔ وہ اس راہ کے پیچھے چلے، اور جوں جوں آگے بڑھے سگنل صاف ہوتے گئے۔ راہ کی آوازیں کبھی ماں کی لوری سی لگتیں، کبھی دوست کی پکار، کبھی گھر کی گھنٹی۔ انہوں نے دیکھا کہ راہ کے کنارے بڑے بڑے بیج تیرتے ہیں جن کے اندر چھوٹے شہر جھپکی لیتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ بیکار چاندوں کے گرد لنگر ڈالے سوئے ہوئے جہاز ہیں جن پر نمی کی لکیریں بنیں اور مٹیں۔ انہوں نے ایسے پتھر بھی دیکھے جن کے اندر نقش چمکتے اور بجھتے، جیسے اُن میں کسی نے سوچیں بند کر رکھی ہوں۔

قافلے کے جہازوں میں ایک پرانا دستور تھا: ہر نئے آسمان سے پہلے کہانی سنائی جاتی تھی۔ کہانی میں ہنسی ہوتی تھی، آنسو ہوتے تھے، اور آخر میں ایک دعا ہوتی تھی جو کسی کو یاد نہ رہتی مگر سب کے دل جانتے تھے۔ ایلان خود کہانی سناتی تھی۔ وہ بتاتی کہ کس طرح آدمی نے پہلی بار خلا کا ذائقہ چکھا اور زبان سن ہو گئی۔ پھر اس نے ایک پرانے راجہ کا ذکر کیا جو لوہے کے تخت پر بیٹھ کر آندھیوں سے دوستی کر لیتا تھا۔ وہ داستانیں سناتی اور ساتھ ساتھ راہ کے نقوش پڑھتی۔ وہ دیکھتی کہ سگنل کی دھڑکن میں کہاں جھوٹ کی لکیر ہے اور کہاں سچ کا سانس۔ اس کے ساتھیں اس پر بھروسہ کرتے، مگر امید پھر بھی اُن کے قدموں کے نیچے کانٹے اگاتی۔

ایک رات، جب جہازوں کے شیشوں پر دبیز دھند اتر آئی، راگھ نے ایلان کے پاس آ کر کہا: “راستہ نیچے کی طرف جھک رہا ہے۔ اگر ہم رفتار بڑھائیں تو اگلے چکر میں ہم اس آواز کے منبع تک پہنچ سکتے ہیں۔” ایلان نے جواب دیا: “تیز جانا مشکل نہیں، رکنا مشکل ہے۔” راگھ کے ہونٹ سکڑ گئے، مگر اس نے کچھ نہ کہا۔ وہ لوٹا اور اپنے ساتھ بچوں کے حلقے میں بیٹھ گیا جن کے ہاتھوں میں کاغذی پتنگوں کی طرح چھوٹے سینسر تھے۔ سب نے اپنی اپنی پتنگ راہ کے ہوا کے سپرد کی۔ پتنگیں ہلکی ہلکی کانپیں اور پھر ایک ایک کر کے جل گئیں۔ راگھ نے ہونٹوں کے بیچ ایک لفظ دبایا: “دوسری صبح۔”

چوتھے چکر میں وہ اس مقام پر پہنچے جہاں راہ ایک چوڑی جھاڑی کی طرح پھیل گئی تھی۔ سگنل اب اتنے قریب تھے کہ جہازوں کے اندر بیٹھے بچوں کو بھی ان میں لفظ سنائی دینے لگے۔ “آؤ… آؤ…” اور ساتھ ہی وہ مناظر جن میں ہرے میدان تھے، شفاف پانی تھا، اور ایسی عمارتیں جو خود کو سنبھالتیں، خود کو صاف کرتیں، خود کو بڑھاتی تھیں۔ قافلے کے بزرگوں نے مشورہ کیا۔ کچھ نے کہا، “یہ فریب ہے۔” کچھ نے کہا، “فریب بھی سچ کی ایک شکل ہے۔” ایلان نے جی بھر کے خاموشی کی اور پھر بولی: “ہمیں ایک جانا ہوگا، سب نہیں۔ ہم نشان چھوڑیں گے۔ ہم واپسی کا ریشہ بُنیں گے۔ اگر ریشہ ٹوٹا تو سمجھو یہ راہ ہماری نہیں۔”

یوں ایک چھوٹا غول بنا۔ اس میں راگھ بھی تھا، اور اس کی آنکھوں میں وہ جوت تھی جو سفر سے پہلے رات کے تاروں میں ہوتی ہے۔ ایلان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: “اگر آواز تمہارا نام لے تو فوراً پیچھے دیکھنا۔ اگر روشنی بہت میٹھی لگے تو آنکھیں پَل بھر بند کرنا۔ اگر دروازہ خود کھلے تو ہاتھ جیب میں رکھنا۔” راگھ نے سر ہلایا اور مسکرایا۔ وہ چلا گیا۔

چھوٹا غول ایک دروازے تک پہنچا جو دروازہ نہ تھا، ریشمی پردہ تھا۔ اندر سے ٹھنڈی سانس آتی تھی جس میں خشک مٹی کی بو تھی اور دور دور گھنٹیوں کی آواز۔ انہوں نے پردہ چھوا تو وہ خود بخود ہٹ گیا۔ آگے ایک شہر تھا۔ شہر میں نہ پہرے دار تھے نہ بادل۔ شہر کے راستے نرم تھے، عمارتیں ہلکی تھیں، اور ہر جگہ خوش آمدید لکھا تھا، ہر زبان میں، حتیٰ کہ ان زبانوں میں بھی جو کسی نے خواب میں بولی تھیں۔ شہر نے کہا: “تم بہت دیر کر چکے ہو۔ مگر دیر کا بھی اپنا وقت ہوتا ہے۔”

راگھ نے حیرت سے دیکھا کہ شہر کے بیچ میں ایک تالاب ہے جس کے پانی میں شکلیں بنتی اور مٹتی ہیں۔ اس نے تالاب میں دیکھا اور وہاں اپنا بچپن دیکھا: کچی مٹی کا صحن، ایک پیتل کی گھنٹی، ایک عورت کا سایہ جسے وہ اب چہرہ نہیں پہنا سکتا تھا۔ اس کے لب کانپے۔ اس کے ساتھیوں نے بھی پانی میں دیکھا۔ کسی نے اپنا کھویا ہوا بھائی دیکھا، کسی نے ڈوبتی بستی کو ابھرتے دیکھا، کسی نے ایسی کتاب دیکھی جس کے حرف انگلیوں سے نیچے نہیں پھسلتے تھے۔ شہر نے کہا: “یہ سب تمہارے ہیں۔ لے لو، رکھ لو، یہاں کسی چیز کی قیمت یاد نہیں رہتی۔”

چھوٹا غول شہر کے اندر پھیل گیا۔ انہوں نے گودام دیکھے جو خالی تھے مگر جب کوئی در کھولتا تو اندر سامان بھر جاتا۔ انہوں نے باغ دیکھے جن میں درخت ہوا میں جڑیں پھیلاتے تھے اور پھل خود منہ تک آتے تھے۔ انہوں نے سڑکیں دیکھیں جو قدموں کے نیچے بن جاتی تھیں اور نقشہ خود کو چلنے والوں کے مطابق بدل دیتا تھا۔ اور جہاں جہاں وہ رکے، ایک نرم سرگوشی ان کے نام لیتی رہی۔ رات ہوئی تو شہر نے خواب دیے۔ وہ خواب ہلکے تھے، میٹھے تھے، اور اُن میں کوئی کانٹا نہیں تھا۔ صبح جب راگھ نے آنکھ کھولی تو اسے لگا کہ اس نے کئی دن سوئے بغیر سفر کیا تھا اور اب پہلی بار جسد کو آرام ملا ہے۔

اسی دوران ایلان اور باقی قافلہ راہ کے دہانے پر ٹھہرا رہا۔ وہ اپنے ریشے کی کھنچاؤ دیکھتی رہی۔ ریشہ آہستہ آہستہ ڈھیلا پڑتا گیا۔ ایک بوڑھا میکینک بولا: “یا تو وہ بہت اندر جا چکے ہیں یا ریشے کو کسی نے نرم کر دیا ہے۔” ایلان نے ریشے میں ایک کانٹا لگایا، جیسے مچھلی پکڑنے والے کانٹا لگاتے ہیں۔ اس نے تھوڑا کھینچا۔ ریشہ چیخا۔ ایلان نے آنکھیں بند کیں۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کے اندر ایک پرانی لوری زور سے گا دی ہو۔ وہ پیچھے ہٹی، مگر ہاتھ نہ چھوڑا۔ اس نے آہستگی سے کہا: “واپس آؤ۔”

ادھر شہر کے دل میں راگھ نے ایک در دیکھا جس پر کوئی لکھا نہ تھا۔ اس کے اندر سے ہلکی سی گرمی آ رہی تھی، جیسے دھوپ کا کنارہ ہو۔ وہ آگے بڑھا۔ در نے خود کو کھول دیا۔ اندر ایک کمرہ تھا جس کے وسط میں ایک ستون ایستادہ تھا۔ ستون میں لکیرے تھیں جو آتی جاتی رہتیں، جیسے سانس چلتا ہو۔ ستون نے اس سے پوچھا: “تم کون ہو؟” راگھ نے کہا: “مسافر۔” ستون نے کہا: “کیا ڈھونڈتے ہو؟” راگھ نے کہا: “وہ صبح جس کی بات راہ کرتی رہی۔” ستون ہنسا۔ ہنسی میں نرمی بھی تھی اور تھکن بھی۔ ستون بولا: “صبح ایک وقت نہیں، ایک عادت ہے۔ تم لوگ عادتوں کو چیز سمجھ کر جیب میں رکھنا چاہتے ہو۔ جب تمہیں بھوک لگتی ہے تو تم آگے بڑھتے ہو۔ جب تمہیں نیند آتی ہے تو تم رُک جاتے ہو۔ مگر صبح کے لیے تمہیں دونوں چھوڑنے ہوں گے۔”

راگھ خاموش رہا۔ پھر اس نے کہا: “ہم عادتیں نہیں، گھر ڈھونڈتے ہیں۔” ستون کی لکیریں کچھ دیر کے لیے سیدھی ہو گئیں۔ پھر ستون نے راگھ کے کندھے پر ایک گرم ہاتھ رکھ دیا، حالانکہ ستون کے ہاتھ نہیں تھے۔ اس نے کہا: “گھر وہ ہوتا ہے جہاں خطرہ تمہارا نام لے کر پکارے اور تم اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو ‘آج نہیں’۔” اتنے میں ریشہ کھنچا۔ راگھ کے کان میں ایلان کی کھینچی ہوئی آواز آئی: “واپس آؤ۔” شہر نے فوراً جواب دیا: “رہ جاؤ۔ یہاں تمہارے نام کی ساعت ہے، تمہارے دکھ کا درماں ہے، تمہاری تھکن کا گہورا ہے۔”

راگھ دو قدم پیچھے ہٹا۔ اس نے تالاب کی طرف دیکھا۔ تالاب میں اس کی ماں کا سایہ اب صاف ہو چکا تھا۔ اس نے وہ آواز سنی جو وہ راتوں کو سنتا تھا۔ پھر اس نے ستون کی طرف دیکھا اور بولا: “اگر میں رہوں تو کیا میں اپنی زبان کی قیمت بھول جاؤں گا؟” ستون نے آہستہ جواب دیا: “یہاں قیمتیں نہیں رہتیں۔” راگھ کی پلکیں جھپکیں۔ وہ سمجھ گیا۔ اس نے اپنے سینے میں ہاتھ ڈال کر ایک چھوٹا سا آلہ نکالا جس میں اس کے سفر کے نقش جمع تھے۔ اس نے اسے تالاب کے کنارے رکھ دیا۔ پھر وہ دروازے سے باہر نکلا۔ شہر نے ہوا میں ایک تلخ خوشبو بھری۔ در نے تھوڑا سا بند ہونا چاہا۔ مگر ریشہ کا کھنچاؤ بڑھ گیا۔ راگھ نے کہا: “میں واپس جا رہا ہوں۔ اگر صبح عادت ہے تو ہمیں اسے اپنے ساتھ لے جانا ہوگا، یہاں چھوڑی ہوئی چیز نہیں چاہیے۔” شہر خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے ایک آخری پھونک تالاب کی سطح پر ماری۔ سطح پر ایسی تصویر بنی جس میں ایلان کی آنکھیں تھیں۔ راگھ مسکرایا۔ وہ چل دیا۔

جب وہ راہ کے پردے تک پہنچا تو اس کے ساتھ دو ہی ساتھی تھے۔ باقی غائب تھے۔ کچھ وہیں سو گئے تھے، کچھ گوداموں میں کھو گئے تھے، کچھ باغوں کی جڑوں میں جا بستے تھے۔ دو جو واپس آئے تھے، ان کے چہروں پر ایک عجیب سکون تھا جس میں خوف کی ہلکی رگیں بھی تھیں۔ انہوں نے ایلان کی طرف دیکھا۔ ایلان نے انہیں گلے لگا لیا۔ ریشہ کھلا اور باقی قافلے تک پہنچ گیا۔ مگر ریشہ کے کئی تار کمزور ہو گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے لپیٹا تو وہ جگہ جگہ سے جل چکا تھا۔

قافلے میں خوشی اور غم ساتھ آئے۔ کچھ نے کہا: “ہمیں واپس جانا ہوگا، انہیں نکالنا ہوگا۔” کچھ نے کہا: “جو جگہ رہنے دیتی ہے وہ جانے نہیں دیتی۔” ایلان نے راگھ سے پوچھا: “تم نے کیا دیکھا؟” راگھ نے سادہ لفظوں میں بتایا: “ہم نے ایک شہر دیکھا جو ہمیں جانتا تھا، جو ہمیں چاہتا تھا، جو ہمیں قیمتیں بھلا دیتا تھا۔ اس نے کہا کہ صبح ایک عادت ہے۔” ایلان نے آہستگی سے آنکھیں بند کیں۔ اس نے اپنے اندر ایک پرانی کہانی کی ٹوٹی کڑی جوڑ دی۔ وہ بولی: “ہاں، اور عادت اگر گھر بن جائے تو مسافر مر جاتا ہے۔” پھر اس نے قافلے سے کہا: “ہمیں نشان لگانا ہوگا۔ نہ اس راہ کو جلانا ہے نہ اس راہ میں گم ہونا ہے۔ ہمیں اس کے گرد باڑ نہیں، گیت بُننا ہے۔”

انہوں نے ایک اشارہ برج اٹھایا۔ برج میں ایسی آواز رکھی گئی جو سفر کے بچوں کو جگاتی ہے اور بے وقت کی نیند کو ہٹاتی ہے۔ برج نے راہ کے دہانے پر ایک دھن بجانی شروع کی۔ وہ دھن سخت نہیں تھی، مگر اس میں ایک ہڈی تھی۔ جو کوئی بھی راہ کے قریب آتا، وہ دھن اس کے دل میں تھوڑی سی چبھن دیتی اور تھوڑا سا ہوش بھی۔ راگھ نے اپنی چھوڑی ہوئی نقشوں والی ڈیوائس کے بدلے اپنے اندر کے نقش کھودنا شروع کیے۔ وہ رات کو بیٹھتا، نرم سروں میں نئی کہانی سناتا: کہ وہاں ایک شہر تھا جو تمہارا نام لے کر بُلاتا تھا، مگر تمہارا نام لیکر تمہارا نام چھین لیتا تھا۔ لوگ سنتے اور خاموش رہتے۔ خاموشی میں وہ ہر کوئی اپنی آواز ڈی چکھتا۔ کچھ کے چہروں پر افسوس آتا، کچھ کے چہروں پر شکر۔

وقت گزرا۔ قافلے نے اپنی راہ بدلی۔ انہوں نے نئی گردنوں پر بندھن باندھے تاکہ کوئی تیز نہ جائے۔ انہوں نے “واپسی کے ریشے” کو مضبوط بنانا سیکھا۔ انہوں نے اپنے جہازوں میں “کمال کے در” کے سامنے تھوڑا سا اندھیرا رکھا، تاکہ روشنی کی چاہ میں آدمی فوراً سر نہ دے۔ انہوں نے بچوں کو وہ کھیل سکھائے جن میں جیت نہیں، صرف رکنا سکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے دعا کے لفظوں میں ایک نیا مصرع ڈالا: “جو در خود کھلے، اسے ہاتھ نہ لگاؤ۔”

ایک رات ایلان اکیلی بیٹھی تھی۔ اس نے آسمان کے کنارے پر ایک چھوٹا سا نقطہ دیکھا۔ وہ نقطہ بڑھتا آیا۔ وہ اس کے بیٹے سُم کا خط تھا۔ اس میں لکھا تھا: “ماں، ہمارے شہر میں سب خیریت ہے۔ ہم نے آج لائبریری میں ایک سوال پوچھا اور وہ ہنس پڑی۔ میں نے تمہاری کہانی دہرائی۔ لوگ رونے لگے۔ کیا میں بھی ان راستوں پر آؤں جہاں سے آوازیں آتی ہیں؟” ایلان نے خط کو ہاتھوں میں تھاما۔ پھر اس نے جواب لکھا: “مجھے تمہاری آنکھوں کی روشنی عزیز ہے۔ مگر یاد رکھنا، جو چیز تمہیں تمہارا نام واپس نہ کرے، وہاں تمہاری جگہ نہیں۔ اگر آؤ تو گھر کی مٹی ساتھ لانا۔ اگر جاؤ تو واپس کی لکیر پہلے باندھنا۔ اور جب کوئی راہ تمہیں خود لے چلنے لگے تو اپنے پاؤں میں وزن باندھ لینا۔”

وہ رات گزر گئی۔ ستاروں کے دریا میں قافلے کے جہاز چھوٹے سیپی بن کر تیرتے رہے۔ کبھی کبھی وہ راہ کے دہانے کے پاس سے گزرتے۔ برج کی دھن تھوڑی بڑھی، تھوڑی دبی، مگر کبھی بند نہ ہوئی۔ کہانیوں کی آگ بھی کبھی سرد نہ ہوئی۔ راگھ نے وقت کے ساتھ ایک نیا کمرہ تراشا جس کا در اندر نہیں، باہر کھلتا تھا۔ اس نے اس میں نشان رکھے: جلتا ہوا ریشہ، تالاب کے کنارے رکھی ہوئی ڈیوائس، ان دو ساتھیوں کے نام جو لوٹ آئے تھے، اور ان بہت سوں کے نام جو رہ گئے تھے۔ وہ کمرہ ہر نئے مسافر کو دکھایا جاتا۔ اندر دیوار پر ایک سادہ جملہ لکھا تھا: “ہر صبح کے پیچھے ایک رات ہے جس سے تمہیں واپس آنا ہوگا۔”

کہتے ہیں برسوں بعد، جب قافلہ ایک اور کہکشاں کے حاشیے پر تھا، انہوں نے پھر ایک جھلملاتی راہ دیکھی۔ آواز پھر آئی: “آؤ… آؤ…” مگر اس بار قافلے میں بچے پہلے بڑوں کی طرف دیکھتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں نئی عقل کی ہلکی سی مٹی تھی۔ ایک لڑکی نے، جس کے بال باریک دھاگوں کی طرح تھے، کہا: “ہم وہاں جائیں گے مگر اپنے نام ساتھ باندھ کر۔ اگر کوئی ہمیں آوازوں کے ذائقے سے سُلا دے تو ہم اپنے کانوں میں مٹی بھر لیں گے۔ اگر کوئی ہمیں آئینے میں دکھا دے تو ہم اپنی آنکھیں پل بھر کو بند کر لیں گے۔” ایلان نے سر ہلایا۔ اس نے راگھ کی طرف دیکھا۔ راگھ کے چہرے پر وہی جوت تھی، مگر اب اس میں سایہ بھی تھا۔ دونوں نے مل کر دھن میں ایک نیا سُر شامل کیا۔ وہ سُر نرم بھی تھا اور کٹھن بھی۔ وہ کہتا تھا: “خطرہ دوست نہیں ہوتا، مگر دشمن بنے بغیر بھی مار دیتا ہے۔ اسے نام سے پکارو۔ اس کی قیمت یاد رکھو۔ پھر فیصلہ کرو۔”

کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، مگر جو اس راہ سے گزرے اُن نے یہی سمجھا کہ ہر پہلی نظر میں جو چیز بہشت لگے، وہ شاید تمہیں اپنے بھید نہ دے۔ وہ تم سے تمہارا بھید مانگے۔ وہ تمہارے نام کی گانٹھ کھولنے کو کہے۔ اگر تمہاری گانٹھ کھل گئی اور تم نے تالیاں بجائیں تو شاید تم پھر کبھی تالیاں نہ بجا سکو۔ اگر تم نے گانٹھ پر ہاتھ رکھا اور کہا “بعد میں”، تو شاید تم منزل کے نہیں، سفر کے آدمی ہو۔ اور سفر کے آدمی کے لیے قانون لکھا جا چکا ہے: “ہر در کھولنا ممکن ہے مگر ہر در سے گزرنا ضروری نہیں۔”

لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ شہر جو آوازوں سے بُلاتا تھا، وہ برا نہ تھا۔ وہ دراصل بھوکا تھا۔ اس کے اندر زمانوں کا ذخیرہ تھا جو ہضم نہیں ہوتا تھا۔ وہ مسافروں کے نام کھا کر انہیں نیند دیتا تھا۔ وہ خود بھی سونا چاہتا تھا مگر اسے جگانے والے گئے نہیں تھے۔ اس لیے وہ نئے جگانے والوں کو پکارتا تھا کہ “آؤ، مجھے سلا دو، میں تمہیں سلا دوں گا۔” یہ بھید ایلان نے اس دن سمجھا جب اس نے برج کی دھن میں تھکن کی ایک لکیر شامل کی، جو سننے والے کو اپنے کندھوں کا وزن یاد دلاتی ہے۔ جب سے یہ لکیریں دھن میں آئیں، کم لوگ گم ہوئے، زیادہ لوگ لوٹے۔ کچھ پھر بھی نہ لوٹے، کہ ہر نسل میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل کی آنکھ سیدھی روشنی میں دیکھنا چاہتی ہے، اور وہ سایہ کو سایہ ہی سمجھتے ہیں، نشانی نہیں۔ ان کے لیے بھی کہانی میں جگہ ہے۔ ان کے نام بھی کمرے کی دیوار پر لکھے ہیں، جہاں ہر حرف کے ساتھ ایک چھوٹا سا پتھر رکھا ہے، تاکہ ہوا انہیں اڑا نہ لے۔

اب اگر کوئی تم سے پوچھے کہ اس قصے کا مطلب کیا ہے، تو فوراً جواب نہ دینا۔ پہلے اس سے پوچھنا کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جانا چاہتا ہے۔ پھر اسے یہ قصہ ایسے سنانا کہ وہ بیچ میں ایک بار ضرور رُک جائے۔ اگر وہ رکا تو سمجھو اس کے قدموں میں وزن ہے۔ اگر وہ نہیں رکا اور کہے کہ “آگے بتاؤ، جلدی بتاؤ”، تو اسے راہ کے دہانے پر بٹھا دینا۔ اسے برج کی دھن سننے دینا۔ اسے تالاب کے پانی میں صرف آسمان دکھانا۔ اسے کہنا: “دیکھو، یہ بھی خوبصورت ہے، مگر اس میں تمہارا نام نہیں۔ تم نام لے کر بلانے والی آوازوں سے ہوشیار رہو۔”

یہ قصہ یوں ختم ہوتا ہے کہ قافلہ اپنی راہ پر ہے، ایلان کی آنکھیں اب تھوڑی مدھم ہیں، راگھ کی کہانیوں میں اب کم لفظ ہیں، زیادہ وقفے۔ سُم کے خطوط میں اب سوال کم ہیں، دعا زیادہ۔ برج کی دھن میں اب وہی مصرع بار بار آتا ہے: “واپسی کی لکیر پہلے باندھنا۔” اور خلا کے دریا میں جہاں جہاں گمراہ راہیں جھلملاتی ہیں، وہاں وہاں یہ دھن ایک باریک ریشم کی طرح لٹکی ہے، جو ہاتھ میں نہیں آتی مگر دل پر بندھ جاتی ہے۔ جو مسافر اس ریشم کو محسوس کرتے ہیں، وہ آگے بھی جاتے ہیں، مگر اپنی جیب میں ایک چھوٹا سا پتھر رکھتے ہیں، جو انہیں یاد دلائے کہ گھر کی قیمت بھولنا آسان ہے اور آسانی ہمیشہ راستہ نہیں ہوتی۔

یوں آدمی چلتا رہے گا۔ وہ نئے در دیکھے گا، نئے شہر دیکھے گا، نئی آوازیں سنے گا۔ کچھ در کھولے گا، کچھ بند چھوڑ دے گا۔ اور جب کبھی کسی در کے پیچھے سے دوسری صبح کی بات آئے گی، وہ اپنی زبان سے آہستہ کہے گا: “صبح عادت ہے، میں اسے اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔” پھر وہ اپنے قدموں میں وزن باندھے گا، اپنے نام کو دہرانے کی مشق کرے گا، اور در کے پاس سے گزر جائے گا، جیسے مسافر گزرتے ہیں: دیکھ کر، سمجھ کر، اور بہت کچھ چھوڑ کر۔ یہی اس قصے کا عہد ہے۔ یہی اس کی دعا ہے۔ یہی اس کا انجام ہے۔ اور یہ انجام مکمل ہے، کہ جو جاننا تھا وہ کہہ دیا، جو نہ کہنا تھا وہ دھن میں چھوڑ دیا۔ اب اگر تم سننے والے ہو تو یہ دھن تمہارے ساتھ چلے گی، اور اگر تم چلنے والے ہو تو یہ دھن تمہیں تھامے رکھے گی۔ اس سے زیادہ نہ مانگو، اس سے کم نہ لو۔ یہی تمہارا نام بچائے گی۔ یہی تمہیں خطرے سے ملائے گی، مگر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہنے کا ہنر بھی دے گی: “آج نہیں۔”

Ask for your own story