Once upon a time…
Drawn from: anywhere in the world, Children story, Trickster, Woman vs Fate Conflict. Told in Urdu.
دھوپ کی راکھ رنگ وادی میں لوگ “چشمۂ پلٹ” کی رسم مانتے تھے: ہر نئے چاند پر وہ پانی میں اپنی پرانی تصویریں ڈبوتے اور یقین کرتے کہ ماضی لوٹ آئے گا۔ نیلوفر، جو کشتی بناتی تھی، اپنی چھوٹی بہن کو طوفان میں کھو بیٹھی تھی۔ بزرگوں نے کہا، تقدیر لکھی جا چکی ہے، چشمہ بس دکھاوا ہے۔ مگر نیلوفر نے ضد کی۔ وہ نقشہ نہ دیکھتی، ہوا کی سوں سوں سے راستہ پہچانتی۔ پہاڑوں کے پیٹ میں سرنگیں تھیں جہاں پتھر بجتے تھے اور راستہ بتاتے تھے۔ ایک رات چشمہ خاموش نہ رہا؛ اس کی لہریں الٹی سمت چلیں۔ رسم کے مطابق، نیلوفر نے بہن کی کڑھائی ڈبوئی تو کڑھائی کی نیلی ڈور کھنچ گئی، جنگل کی طرف اشارہ کرتی۔
وہ تنہا نکلی۔ راستے میں “نمک کی بارش” ہوئی، جو اگر ماتھے پر گرے تو لوٹا ہوا دل سخت ہو جاتا۔ نیلوفر نے کشتی کے کینوس سے سر ڈھانپا اور آگے بڑھی۔ جنگل کے اندر ایک خشک دریا تھا جو صرف سچ بولنے پر بہتا تھا۔ اس نے مانا کہ وہ ڈرتی ہے، پانی چل پڑا۔ آگے ایک کٹیا میں بہن نیم جاگ تھی، یاد بھول چکی تھی۔ نیلوفر نے کڑھائی کی ڈور اس کی کلائی سے باندھی۔ تقدیر کی گرہ ڈھیلی ہوئی، بہن لوٹ آئی۔ واپسی پر چشمۂ پلٹ نے پہلی بار خاموشی سے مسکرایا۔
Did it land?