Once upon a time…
Drawn from: Estonia, a story set in Post Apocalyptic World, Guardian, divine intervention. Told in Urdu.
بہار کی خنکی تالِن کی گلیوں میں نمکین ہوا بن کر رقص کر رہی تھی۔ انّا صبح سویرے ساحل کے نیلے باکس باغیچے میں کائی کی تراشی ہوئی بستروں کو پانی دیتی گئی—گھونگھے کے خولوں پر شمسی دھبّے ٹمٹما رہے تھے۔ اس سال سنگنے کی رات قریب تھی؛ قدیم گیت نئے طریقوں سے گائے جاتے—ایک لڑکی بانسری کے بجائے ہوا سے نمی کھینچنے والی بانسری نما نالی پھونکتی، جس سے بوندیں گیت کے سروں میں ٹپکتی تھیں۔
انّا کے دادا نے کہا تھا کہ آکاش کے آقا کبھی کبھی دریا کی زبان سے بولتے ہیں۔ دوپہر کو پانی کے کنارے ریت لرزی—چاندی سی مچھلیاں ایک دم سطح پر آئیں، اور ہوا میں اجنبی نمکیاتی خوشبو پھیل گئی۔ ایک بوڑھی عورت نے اپنا سر بندھا تولیہ کھول کر پانی پر رکھا—قدیم رسم، لیکن اب اس پر چھوٹے بیج چپکے تھے جو نمک چھانتے تھے۔ انّا نے ہمت کرکے اپنی التجا کہی: “ہمیں ہلکی بارش چاہیے، نہ زیادہ نہ کم۔”
دوسری شام بادل آئے، باریک مگر مسلسل۔ کھڑکیوں کے کناروں پر جلبک کے ہار مہکنے لگے۔ انّا نے اپنے دادا کی پرانی لکڑی کی کشتی کے کیلے کو چھوا—اور دور، سمندر پر ہلکی روشنی نے ایسے جھپکی، جیسے کوئی دیوتا تھکن سے مسکرا رہا ہو۔
Did it land?