Once upon a time…
Drawn from: Tower of Babel, Moral story, Superhuman Helper, an old man reflecting on his life. Told in Urdu.
رات گہری تھی، مگر نیچے آگ جل رہی تھی۔ آگ کے گرد بیٹھے مزدوروں کے چہرے آگ کے شعلوں میں کھنچے سایوں کی طرح دکھتے تھے۔ دور آسمان میں، ایک دھندلا ہلال رینگ رہا تھا، اور اس کے نیچے وہ عمارت کھڑی تھی جسے لوگ ہمیشہ سے سب سے لمبی کہتے آئے تھے۔ کسی زبان میں اسے کیا کہتے ہیں، کوئی نہیں جانتا تھا، کیونکہ یہاں ہر قبیلے کی زبان الگ الگ تھی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ اس کا سایہ دن کے وقت بھی زمین پر رات جیسا اندھیرا پھیلا دیتا ہے، اور جب ہوا تیز چلتی تو بڑے پتھر اپنی اپنی جگہ کراہتے تھے، جیسے پُرانے لوگ تھک کر سانس لیتے ہیں۔
اسی آگ کے پاس ایک بوڑھا بیٹھا تھا۔ اس کی داڑھی دودھ کی طرح سفید تھی، مگر اس کے ہاتھ گہری مٹی اور سرخی مائل اینٹوں کے رنگ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لوگ اسے "دادا سَلم" کہتے تھے۔ کوئی پوچھتا: تمہارا اصل نام کیا ہے؟ وہ مسکرا کر چپ ہو جاتا، جیسے الفاظ اب اس کے بس میں نہ رہے ہوں۔ اس نے اپنی پوری عمر اسی اونچی عمارت کے سایے میں گزاری تھی۔ کبھی وہ ایک تیز کار مزدور تھا۔ اب وہ ایک داستان گو تھا۔ اس کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں وہ سِیاہ سی رس بھری چیز رکھتا، اور جب بھی کوئی تھکا مزدور آنے والی تنظیم کا نام لیتا یا اپنے چھوٹے بچوں کا، تو دادا سلم اس پیالے سے ایک قطرہ اس کی زبان پر لگا دیتا۔ کہتے تھے کہ اس میں "یاد کا شُھلہ" ہے، ایک رس جو ہر برس چاند کے اترتے دن ایک خاص درخت سے نچوڑا جاتا ہے۔ اس درخت کو صرف رات کی زبان جانتی ہے، دن کی آواز اسے ڈرا دیتی ہے۔ کوئی کہتا: یہ درخت وہاں اگتا ہے جہاں پتھر پکنے کی آواز آتی ہے۔ کوئی کہتا: یہ درخت عمارت کی سیڑھیوں کے سایے میں اپنا بدن بدلتا رہتا ہے۔ مگر سچ کیا تھا، بس دادا سلم ہی جانتا تھا۔ وہ اس رس سے قصے چمکاتا۔ اس رس کی ایک بوند سننے والا تھکا آدمی پا لیتا کہ اس کے دادا نے کیسے ایک دن آسمان پر اُڑتی مٹی کو ہاتھ سے تھاما تھا، یا اس کی ماں کی ہنسی کیسے کونے کونے میں رِس گئی تھی۔
اس رات بھی فورمین نے لٹھ اٹھا کر مزدوروں کو اشارہ دیا کہ اگلی صبح پھر اینٹ اوپر پہنچانی ہے، پھر سانچے پر مسالہ رکھنا ہے، اور پھر وہی چِلّا… مگر رات لمبی تھی۔ وہ سب آگ کے پاس ٹھہر گئے۔ ایک جوان لڑکا جو ابھی داڑھی پر پہلی بار انگلی پھیر رہا تھا، بولا: دادا، کوئی قصہ سناؤ۔ ویسا قصہ جو دل کو نیند کے لوہے سے نہ باندھے، مگر اگلے دن ہاتھوں میں زور بھی چھوڑ جائے۔
دادا سلم نے آہستہ سے ہنکارا بھرا اور پیالے کو تھوڑا سا ہِلا دیا۔ شعلوں میں پیالے کی سطح پر جیسے کوئی چاند جھلک اٹھا۔ اس نے کہا: اچھا، آج میں تمہیں "چڑھتے وقت کا گیت" سناؤں گا۔ یہ گیت میرے جِیتے جی کا نہیں صرف، بلکہ میرے باپ کے باپ کے باپ کا ہے۔ مگر تم لوگ اپنی زبانوں میں اسے کیا کہو گے، میں نہیں جانتا۔ کیونکہ ہر زبان کی ایک ڈھال ہوتی ہے، اور ہر ڈھال کے نیچے ایک ننگا آدمی کھڑا ہوتا ہے۔ یہ قصہ انہی ننگے آدمیوں کا ہے جو پتھر ڈھوتے ہیں اور اوپر آسمان کو دیکھتے ہیں۔
ابتدا
وہ دن تھا جب عمارت ابھی اتنی اونچی نہ تھی۔ بڑے پتھروں کے پہاڑ ابھی زمین کے قریب تھے۔ دھوپ کی صورتیں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ تب میں جوان تھا، میرے گھٹنوں میں سانپ تھا، بازوؤں میں گھوڑا۔ ہم سب اوپر کو جاتے تھے، لکڑی کے تانوں پر چڑھتے تھے، رسّیاں کمر میں باندھتے تھے۔ ہمارے سامنے راستہ اوپر کو کھلتا تھا، جیسے آسمان کے کانپتے ہوئے ہونٹ۔ ہم سب مختلف زبانیں بولتے تھے۔ کوئی دائیں سے چیختا، کوئی بائیں سے گاتا، مگر ہاتھ سب کی ایک ہی بولی جانتے تھے۔ اینٹیں کیسے اٹھاتے ہیں، رسّی کیسے کھینچتے ہیں، توازن کیسے رکھتے ہیں—یہ ہاتھ سارے مذاہب کے اور ساری بولیوں کے رشتے دار ہوتے ہیں۔
تب یہاں ایک دستور تھا، جسے تم نے کبھی سنا بھی نہیں ہوگا۔ اسے ہم "چڑھواں چاند کی چُھٹی" کہتے تھے۔ ہر مہینے میں ایک رات ایسی آتی جب چاند آدھا ہو کر چھوٹے بچوں کی ہنسی کی طرح پتلا بن جاتا۔ اس رات ہم کام روک دیتے تھے۔ سب لوگ پتھروں اور لکڑیوں کو چھوڑ کر اس عمارت کی ہر منزل پر، ہر بالکنی پر، ہر کونے پر کھڑے ہو جاتے تھے۔ ہم چہرے اوپر کو رکھتے اور زبانیں اپنی اپنی بولیوں کی نہیں، بلکہ "دوسری زبان" کی طرف موڑتے۔ دوسری زبان کیا ہوتی ہے؟ وہ زبان جس میں الفاظ نہیں ہوتے۔ ہم سانس اندر باہر کرتے۔ ہم ہاتھ ہلاتے۔ ہم آنکھ بند کرتے۔ اور اس وقت عمارت کے بلّیخانے میں قیچی کی طرح کچھ چلتا، ایک ہوا جو چل کر پائپوں میں گھس جاتی اور اینٹوں کے درمیان سے ایک دُھند سی نکلتی۔ یہ دھند ہماری سانسوں کے ساتھ مل کر کچھ ایسا کرتی کہ ہم سب ایک دوسرے کی بات سمجھ سکتے تھے، بغیر بولے۔ جیسے کسی نے دلوں کے اوپر ایک پل رکھ دیا ہو۔
اس رات ہم قصے بانٹتے۔ ایک معمول یہ تھا کہ سب سے بوڑھا آدمی اپنے گھر کے ٹوٹے برتن کی بات کرتا، اور سب سے چھوٹا لڑکا اپنی تازہ خواہش بتاتا۔ پھر ہم سب مل کر ان کے بیچ ایک راستہ ڈھونڈتے۔ اسے ہم "بین پل" کہتے تھے؛ یہ پل دکھائی نہیں دیتا تھا، مگر جب ہم اگلی صبح پتھر اٹھاتے تو پتھر ہلکا لگتا۔ یہ ہمارے شہر کی پرانی رسم تھی، "چڑھواں چاند کی چُھٹی"۔ کہتے ہیں کہ یہ رسم ایک ایسی عورت نے بنائی تھی جو ہوا سے بات کرتی تھی، مگر میں اس کا نام نہیں جانتا۔ نام تو اس وقت ہی بکھر جاتے ہیں جب کوئی اونچائی بہت بڑھ جائے۔
اس زمانے میں ایک لڑکی تھی، امّہ۔ نہیں، یہ میری ماں کا نام نہیں تھا۔ میری ماں کا نام کچھ اور تھا، مگر اس لڑکی کو سب امّہ کہتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ سب کا حال پوچھتی تھی۔ وہ کام نہیں کرتی تھی۔ وہ بس عمارت کے بیچوں بیچ جا کر ایک چھوٹا سا ڈھول بجاتی۔ جب وہ ڈھول بجاتی تو دیواریں جواب دیتیں۔ وہ دیواریں کیسے جواب دیتیں؟ کبھی ہلکی ہلکی کھڑک کے ساتھ، کبھی ایک لمبی گونج کے ساتھ۔ ہم سنتے اور سمجھتے کہ آج شمال کی سمت والے پتھر ناراض ہیں، یا مشرق کی سمت کے ستون تھک گئے ہیں۔ تو ہم وہاں جاکر کام بدلتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عمارت دن بہ دن اوپر اٹھتی گئی۔ ہم امّہ کے ڈھول کی گونج سے اپنی طاقت بانٹتے گئے۔
میں تب ایک لڑکا ہی تھا، مگر میری آنکھوں نے وہ سب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دن ایک آدمی آیا جو بکریاں بیچتا تھا، اور اسے کسی نے بتایا کہ یہاں دیواریں بولتی ہیں۔ وہ ہنسا اور بولا: دیواریں چپ ہوتی ہیں، بس آدمی شور کرتے ہیں۔ پھر وہ ہمارے ساتھ دو دن رہا۔ تیسرے دن جب امّہ نے ڈھول بجایا اور دیوار نے ایک لمبی سرد آہ بھری، تو اس آدمی نے خود اپنی زبان سے کہا: آج جنوب کی جانب کے پتھر پیاسے ہیں۔ وہ حیران تھا۔ ہم حیران نہ تھے، کیونکہ یہاں عجیب معمول ہیں۔
اب سنو، اس شہر میں ایک پُرانی روایت اور بھی تھی، جس کا نام تھا "چڑھن کی سوغات"۔ ہر شخص جو عمارت میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا، وہ اوپر جانے سے پہلے ایک چھوٹا سا بوجھ اپنے دل پر رکھتا۔ نہیں، وہ کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ بوجھ ایک یاد تھا۔ کوئی اپنی ماں کی آخری مسکراہٹ رکھتا، کوئی اپنے باپ کی چپ۔ کوئی اپنی کھوئی ہوئی محبت کا نام رکھتا جس پر ہوا نے مٹی پھیر دی تھی۔ پھر جب وہ اوپر کو چڑھتا، ہر منزل پر اس یاد کا کچھ حصہ دیواروں کے بیچ چھپ جاتا۔ اس سے عمارت بھاری نہیں ہوتی تھی، بلکہ ہلکی لگتی تھی۔ کیونکہ یادیں جب بانٹی جائیں تو مردہ پتھر زندہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہر منزل ایک بڑا دل تھی، ہر دل میں سینکڑوں یادوں کی رگیں دوڑتی تھیں۔
میں نے بھی ایک یاد چھپائی تھی۔ یہ میں آخر میں بتاؤں گا کہ وہ کیا تھی۔
بیچ
سال گذرتے گئے۔ عمارت اونچی ہوتی گئی۔ زبانیں بھی سب کے حلقوں میں الگ الگ آگ کی طرح جلتی رہیں۔ کوئی کہتا: آؤ اوپر تک جائیں کہ آسمان کے سوراخ سے خدا کی سانس محسوس کریں۔ کوئی کہتا: نیچے رہو کہ زمین کا دودھ زیادہ سچا ہے۔ مگر کام جاری رہا، کیونکہ انسان جب کسی چیز کو شروع کر دیتے ہیں تو وہ اسے چھوڑتے دیر سے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ ہوا چلنے لگی جسے ہم "دوکانوں کی ہوا" کہتے تھے۔ یہ ہوا کچھ ایسی تھی کہ جب یہ چلتی تو بازار کے سب جھگڑے ہنس پڑتے، اور گھروں کی سِلائی خود جڑ جاتی۔ مگر ایک دن یہ ہوا ابھری تو اس نے عمارت کے اوپر والی منزلوں پر تھرّا کر ایک بڑی ہنسی ہنسی۔ وہ ہنسی ایسی تھی جیسے کوئی بچے کا گلہ دب جائے اور وہ پھر بھی ہنسنا چاہے۔ امّہ نے ڈھول بجایا، مگر دیواریں جواب دینے سے پہلے سانس روک کر رہ گئیں۔ فورمین نے اپنی لٹھ ہوا میں گھمائی۔ مزے کے گانے خاموش ہو گئے۔ ہم سب نے دیکھا کہ ہوا نے اوپر کی طرف سے ایک باریک گرد کی لکیر نیچے گرائی۔ وہ گرد جیسے کسی کے لفظوں میں اٹکی ہوئی تھی۔
تین دن بعد ہمیں پتہ چلا کہ اوپر والے حصے میں لوگ ایک دوسرے کی زبان سمجھنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ نہیں، یہ وہ نہیں تھا جو تم بارہا سن چکے ہو۔ یہ کچھ اور تھا۔ یہ ایسا تھا کہ زبانیں بدل نہ گئی ہوں، بل کہ کانوں میں ایک بلی آکر بیٹھ گئی ہو۔ بلی بیٹھی ہو، اور وہ ہر لفظ کے آگے اپنا پاؤں رکھ دے۔ ہم کہتے: دو اینٹیں ادھار دینا۔ کان سنیں: دو آہیں چھوڑ دینا۔ ہم کہتے: رسی کھینچو۔ کان سنیں: رِسک بتاؤ۔ ایسی تھی وہ ہوا، "دوکانوں کی ہوا" کا نیا روپ۔ ہم نے اس کی پرانی ترتیب کبھی نہیں دیکھی تھی۔
اس رات "چڑھواں چاند کی چُھٹی" تھی۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے۔ دوسری زبان میں سانس لیا۔ امّہ نے ڈھول تیز کیا۔ مگر ہوا نے ڈھول کی آواز کو کتر کتر کر کسی اور رنگ میں ڈھال دیا۔ دیواریں بولیں تو ان کی باتیں مدھم اور دھندلی تھیں، جیسے کوئی اندھیری میں پانی کے نیچے سے پکارے۔ ہم نے پھر بھی سنا۔ ہم نے سنا کہ دیواریں کہہ رہی ہیں: ہمیں چھوڑ دو۔ ہمیں مزید اوپر نہ بڑھاؤ۔ ہماری جڑیں درد کر رہی ہیں۔ ہم نے فورمین کو دیکھا۔ اس نے ایک لمحے کو لٹھ نیچے کر دی۔ پھر اس نے اوپر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا خوف تھا۔ شاید اسے لگا کہ اگر عمارت رک گئی تو اس کا نام مٹی میں گِر جائے گا۔ وہ بولا: اور اوپر۔ اور اوپر۔ اور اوپر۔ اس کی زبان یہ کہہ رہی تھی، مگر اس کے دل میں شاید کوئی اور بات تھی۔
ان دنوں میں ایک عورت سے ملا، رَمہ۔ وہ لنگڑی تھی۔ اس کی ایک ٹانگ بچپن میں لوہے کی زنجیر سے زخمی ہو گئی تھی۔ مگر اس کے ہاتھوں میں ہنر تھا۔ وہ پتھروں کا چمچہ بناتی، جس سے ہم مسالہ اوپر لگاتے۔ اس کا چمچہ جب پتھر سے چھوتا تو ایک چھنکار ہوتی۔ وہ کہتی: یہ اچھی ہے۔ یا کہتی: یہ ہلکی ہے۔ وہ پتھر کے اندر کا وزن بھی سن لیتی تھی۔ میں اس کے پاس بیٹھتا اور پوچھتا: تم نے یہ کیسے سیکھا؟ وہ کہتی: میرے نانا نے سکھایا۔ وہ کہتے تھے کہ ہر چیز کا ایک اندر اور ایک باہر ہوتا ہے۔ اندر کا وزن سُننا پڑتا ہے۔ باہر کا وزن اٹھانا تو سبھی جانتے ہیں۔ پھر وہ ہنستی۔ اس کی ہنسی میں کسی ندی کا شور تھا۔
رمہ اور میں "چڑھن کی سوغات" کی رسم میں ایک نئی چیز لائے۔ ہم نے سوچا کہ اپنی اپنی یادیں تو سب اندر چھپا رہے ہیں، مگر کیا یہ بہتر نہ ہو کہ کچھ خیال بھی چھپا دیں؟ رَمہ نے کہا: خیال؟ میں نے کہا: ہاں۔ ایک دن جب ہم اوپر گئے، ہم نے ایک خیال دیوار کے اندر چھپایا: کہ جب تھکن ہاتھوں سے سر میں چلی آئے تو ہم سب خاموش ہو جائیں، اور پتھر خود اپنی جگہ پہ جا لگیں۔ یہ خیال عجیب تھا۔ مگر دوسرا دن آیا تو جب ہم سب بڑھتے بڑھے اور سانس اوپر کو لڑکھڑائی، تو اچانک پتھر ایک دم سے کہیں سے اٹھ کر صحیح جگہ پہ لگے دکھائی دیے۔ ہم حیران ہوئے۔ فورمین نے دیکھا تو اس نے کچھ نہیں کہا، مگر اس کی آنکھیں یہ پوچھ رہی تھیں: تم نے کیا کیا ہے؟ ہم نے جواب نہ دیا۔ کیونکہ ایسی چیزیں لفظوں میں نہیں پڑتیں۔ یہ اندر والی زبان میں ہوتی ہیں۔ وہی زبان جو "چڑھواں چاند" کے دن ہم سانس میں بولتے ہیں۔
پھر ہوا کا وہ عجیب روپ تیز ہوا۔ لوگ ایک دوسرے پر غصہ کرنے لگے۔ ایک دن رسّی لڑکھڑائی، دو لڑکے نیچے گر گئے۔ ان کے نام ہمیں یاد ہیں۔ ایک کا نام ٹِٹّا تھا، دوسرے کا سوہان۔ دونوں ہنسانے والے تھے۔ ان کی ہنسی اب بھی راتوں کو عمارت میں گونجتی تھی۔ ان کی موت کے بعد امّہ نے ڈھول دو دن تک نہیں بجایا۔ دیواریں خاموش رہیں۔ پھر تیسرے دن اس نے ڈھول کو میرے ہاتھ میں دیا اور کہا: اب تو بجا۔ میں نے ڈھول کو تھاما۔ میری انگلیاں کمپ رہی تھیں۔ میں نے دھیرے دھیرے بجایا۔ دیواروں نے ایک بھاری آہ بھر کر جواب دیا۔ وہ آہ جن دو لڑکوں کی روحیں لے گئی تھیں، اسی کے پیچھے پیچھے سارا شہر چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رو دیا۔ اس دن میں نے جانا کہ دیواریں صرف آواز نہیں جواب دیتیں، وہ آنسو بھی پی جاتی ہیں۔
ان دنوں میں نے اپنے اندر ایک نئی چیز محسوس کی۔ میرا جسم کمزور ہو رہا تھا، مگر میرے دل میں آوازیں صاف ہو رہی تھیں۔ میں لوگوں کی باتوں کے بیچ کے وقفے میں کچھ سن لیتا۔ وہ وقفہ ہی تو اصل بات ہوتا ہے۔ وہ جگہ جہاں لفظ نہیں ہوتے، جہاں سانس بھاری ہو جاتی ہے اور آنکھیں دور دیکھتی ہیں۔ اس جگہ میں نے اپنے آنے والے انجام کی ایک جھلک دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ میں بوڑھا ہو جاؤں گا، اور ایک دن جب سب آگ کے گرد بیٹھیں گے تو میں ان سب کو یہ قصہ سناؤں گا۔ وہ سنیں گے، کچھ ہنسیں گے، کچھ روئیں گے، اور پھر سب اٹھ کر اپنے اپنے بستر میں ٹک جائیں گے۔ اور عمارت؟ وہ تب تک کھڑی رہے گی، مگر اس کی چوٹیں بڑھ جائیں گی۔
اس کے بعد ایک واقعہ ہوا۔ شاید یہی وہ واقعہ تھا جس نے ہم سب کی سانس بدل دی۔
ایک رات "چڑھواں چاند" سے پہلے کی تھی۔ امّہ نے مجھ سے کہا: سلم، آج ہم "یاد کے شُھلے" کی فصل کاٹیں گے۔ میں نے پوچھا: کہاں؟ اس نے کہا: وہاں جہاں دیوار کی مچھلیاں تیرتی ہیں۔ تم ہنسو گے، مگر یہ سچ ہے: دیواروں میں مچھلیاں ہوتی ہیں، پتھر کی، پانی کی نہیں۔ وہ روشنی کے اندر تیرتی ہیں، جیسے اندھیرے میں موم بتی کی ڈور۔ ہم عمارت کے ایک بڑے کمرے میں گئے، جہاں روشنی چھت کے ایک سوراخ سے اندر آتی تھی۔ امّہ نے ڈھول کو زمین پر رکھا اور آہستہ سے ایک گھومتا ہوا گیت گایا۔ روشنی نے اپنی شکل بدلی۔ ہمیں لگا جیسے روشنی کے اندر چھوٹے چھوٹے سائے ہیں۔ وہ سائے مچھلیوں کی طرح حرکت کرنے لگے۔ امّہ نے ایک پیالہ نکالا۔ پیالے کا رنگ سیاہ تھا۔ اس نے ہاتھ سے روشنی کو چھوا۔ روشنی اس کے ہاتھ میں ٹھہر گئی، جیسے دودھ۔ اس نے اسے پیالے میں دھیرے سے ٹپکایا۔ میں حیران تھا۔ وہ بولوے: یہ "یاد کا شُھلہ" ہے۔ اس کی ایک بوند لوگ اپنے زبان پر لگائیں گے تو انہیں اپنی اپنی اصل یاد آئے گی۔ پھر وہ ہنسیں گے، جلیں گے، روئیں گے، مگر سچ سے دور نہیں بھاگیں گے۔
ہم پیالہ لے کر نیچے آئے۔ اگلے دن ہم نے چند ہنر مند مزدوروں کو بوندیں دیں۔ انہیں کچھ اپنے بچپن کی بھولی ہوئی خوشبوئیں یاد آئیں۔ کسی کو اپنی ماں کے چولہے کی راکھ کا ذائقہ۔ کسی کو اپنے باپ کی قمیض کی بغل کی بو۔ کسی کو ایک بارش جو آدھی رات کو آئی تھی اور اس کے کھیت میں کیچڑ بھرا تھا۔ وہ سب ہنسے۔ پھر انہوں نے اور زور سے کام کیا۔ میں نے اس وقت اس پیالے کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ امّہ نے کہا: اسے سنبھال کر رکھنا۔ اس میں ہماری سب سانسوں کا راز ہے۔
اسی دوران، فورمین نے اوپر کے سرداروں سے کچھ وعدے کیے۔ وہ وعدے ہم نہیں سن سکے، مگر ہمیں اندازہ ہوا کہ اس بار اوپر والوں کی خواہش زمین سے بڑی ہوئی ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ عمارت اس بار اتنی اوپر جائے کہ ساری دنیا اس کے نیچے دانہ چنے۔ جب آدمی خواہش کا پیمانہ بڑھاتا ہے، تو کچھ باقی کم ہو جاتا ہے۔ کم کیا ہوا؟ ہماری "چڑھواں چاند کی چُھٹی" کم ہو گئی۔ ہمیں کہا گیا کہ اب ہر دوسرے مہینے میں ہی ہوگی۔ ہوا نے بھی اپنا رخ بدلا۔ دیواروں کی زبان گول ہو گئی۔ امّہ خاموش رہنے لگی۔
میں رَمہ کے پاس جا کر بیٹھتا۔ وہ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہتی: سلم، تمہاری انگلیاں ڈھول کی لکیر جانتی ہیں۔ انہیں پتھر کی لکیر بھی دل سے پتہ ہے۔ تم ڈھول بجاؤ یا پتھر اٹھاؤ، دونوں ایک ہی بات کا دوسرا نام ہے: سانس اور بوجھ۔ پھر ایک دن اس نے مجھے ایک چمچہ دیا۔ اس کے کونے پر اس نے میری ماں کا نام کھودا تھا۔ میں نے پوچھا: تمہیں میری ماں کا نام کیسے معلوم؟ اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، مگر پتھر جانتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا جب میں نے اس پر چمچہ چلایا۔
اسی دن رات کو ہم سب اوپر گئے۔ "چڑھواں چاند" کی چُھٹی تھی۔ مگر ایک نیا کھیل شروع ہوا۔ فورمین نے کہا: آج سے ہم "دھاگے کی کسوٹی" کریں گے۔ یہ وہ نئی رسم تھی جسے اس نے خود بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ اس سے ہم سب کے بیچ آہنگ بن جائے گا۔ اس کسوٹی میں ہر مزدور اپنی کمر میں ایک دھاگہ باندھتا، پھر سب دھاگے ایک دوسرے سے ملائے جاتے اور اوپر ایک بڑے کلّے میں باندھے جاتے۔ فورمین ایک ایک کر کے سب کے نام بولتا۔ جب وہ نام بولتا، وہ آدمی چوٹی کی طرف دیکھتا اور زبان سے ایک لفظ نکالتا۔ وہ لفظ اس کے بچپن کا ہوتا۔ جیسے کوئی کہتا: آم۔ کوئی کہتا: چھپر۔ کوئی کہتا: چرخہ۔ اسی وقت کلّہ ایک ہلکی کھنکار دیتا۔ اس کھنکار سے پتہ چلتا کہ وہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے یا سچ۔ یہ کھیل عجیب تھا۔ کچھ لوگوں کے چہروں پر ہنسی آ جاتی۔ کچھ کی آنکھوں میں پانی بھر جاتا۔ یہ کھیل اس لیے بھی خطرناک تھا کہ کچھ لوگ اس میں اپنا راز بدلنا چاہتے۔ مگر کلّہ بے وقوف نہیں تھا۔ اس کی کھنکار کہتے تھے کہ دنیا کے سارے راز ایک دوسرے کے رشتے دار ہیں۔
یہ "دھاگے کی کسوٹی" ہمارے شہر کی بنی نئی رسم تھی۔ اس نے لوگوں کو ایک دوسرے کے بچپن سے باندھنا شروع کیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی ہوئی۔ کبھی کبھی دھاگہ اتنا سخت ہو جاتا کہ کوئی آدمی سانس لینے میں مشکل محسوس کرتا۔ پھر ہمیں جلدی سے اسے کھولنا پڑتا۔ کچھ لوگ بے ہوش ہو جاتے۔ ایک بار ایک آدمی… اُس کا نام جاؤ تھا… وہ دھاگے کے دباؤ سے واپس نہ آیا۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہم نے اسے زمین دی۔ اس دن سے کچھ لوگوں نے اس کھیل سے ڈرنا شروع کیا۔ مگر فورمین کہتا: یہ ہمیں سچا بناتا ہے۔ امّہ یہ سنتی اور پھر اپنا ڈھول آہستہ آہستہ بجانے لگتی، جیسے وہ فورمین کی بات کو نرم کرنا چاہتی ہو۔
اُسی زمانے میں میرے اندر کے پرندے نے ایک مخصوص دھن گانا شروع کر دیا۔ وہ دھن میری نیند کے کناروں پر بیٹھتی اور صبح میرے ہاتھوں میں اتر آتی۔ میں جب پتھر تھامتا تو وہ دھن پتھر کو ہلکا کرتی۔ جب ڈھول بجاتا تو وہ دھن دیواروں میں آبشار کی طرح بہتی۔ مگر میں نے اس دھن کو کبھی نام نہیں دیا۔ آدمی جب دھن کو نام دیتا ہے تو وہ دھن تھک جاتی ہے۔
ایک دن میں نے امّہ سے کہا: میں بوڑھا ہو رہا ہوں۔ میرے گھٹنے سوکھ رہے ہیں۔ امّہ نے کہا: تمہارے گھٹنوں میں سانس ہوگی تو تم ہلکے رہو گے۔ اور تمہارے دل میں آواز ہوگی تو تم بھاری رہو گے۔ دونوں کو لے کر چلو۔ میں نے کہا: اگر دونوں ایک دوسرے کو روک لیں؟ وہ بولی: تب تم بیٹھ جاؤ گے اور دوسروں کو راستہ دو گے۔ یہ بھی کام ہے۔ ہر کوئی اوپر نہیں جاتا۔ کچھ لوگ سائے میں بیٹھ کر راستہ دکھاتے ہیں۔
یہ سن کر میرا دل ہلکا ہوا۔ میں نے سوچا: ایک دن میں نیچے بیٹھوں گا۔ آگ جلاؤں گا۔ لوگ آئیں گے۔ میں انہیں "یاد کا شُھلہ" لگاؤں گا۔ میں ان کو ان کے بچپن کا کوئی لفظ دوں گا۔ وہ پھر پتھر کو ہاتھ لگائیں گے تو پتھر ان کے رشتے دار جیسا ہو جائے گا۔ یہی میرا کام ہوگا۔
آخر
وقت نے اپنی بڑی چادر پھیلا دی۔ ہم سب اس چادر کے نقش بن گئے۔ امّہ ایک رات ڈھول بجاتے بجاتے رک گئی۔ اس نے کہا: اب ہوا اور دیواریں براہ راست بات کریں گی۔ میں درمیان سے ہٹتی ہوں۔ وہ ہٹ گئی۔ مگر بنا اس کے ڈھول کے، دیواروں کے لفظ کمزور ہو گئے۔ وہ دھیرے بولیں، کم سمجھ میں آئیں۔ رَمہ بھی تھکنے لگی۔ اس کے ہاتھوں میں کپکپی آ گئی۔ اس کا چمچہ کبھی کبھی غلط سن لیتا۔ وہ کہتی: اب پتھر کے اندر کا وزن میرے ہاتھ سے چھپ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اندر والی زبان نے اپنا دروازہ بدل دیا ہے۔ میں اس کے ساتھ بیٹھی اور اس کے بازو دبایا۔ اس نے کہا: وقت کے ساتھ ہونے کے لیے کبھی آدمی کو خود کو پیچھے رکھنا پڑتا ہے۔ میں اب پیچھے بیٹھ کر دوسروں کے چمچوں کی آواز سنوں گی۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے وہ چمچہ دے دیا جس پر میری ماں کا نام کھدا تھا۔
اسی موسم میں "دوکانوں کی ہوا" نے اپنا آخری بڑا کھیل کھیلا۔ ایک رات وہ آئے۔ رات سنگین تھی۔ ہم سب اوپر تھے۔ دھاگے کی کسوٹی بند ہو چکی تھی—فورمین نے خود اسے چھپایا تھا کیونکہ اسے لگا کہ یہ بھی کہیں لوگوں کو توڑ نہ دے۔ مگر ہوا نے کسی اور کسوٹی چلا دی۔ اس نے ہمارے پاس بیٹھے آدمیوں کی زبانوں کو بالکل نہیں بدلا۔ اس نے ہمارے دلوں کے لفظ بدل دیے۔ ہم نے ایک دوسرے کو وہی کہا جو ہمیشہ کہتے تھے، مگر اس بار وہ ہمارے دلوں میں کسی اور معنی سے اترے۔ میں نے رَمہ سے کہا: کل اوپر زیادہ نہ جانا۔ اس نے سنا: تم میرے ساتھ نہیں ہو۔ میں نے فورمین سے کہا: کچھ دیر بیٹھ جا۔ اس نے سنا: تم بغاوت کرتے ہو۔ ہوا نے ہمارے بیچ فاصلہ رکھ دیا۔ اس رات ایک بڑی لکڑی ٹوٹی۔ تین ستون لڑکھڑائے۔ ہم نے زور لگا کر انہیں کھڑا رکھا۔ صبح ہوئی تو ہر کوئی بے خواب لگا۔ ہم نے بتایا کہ ہمیں کسی نے ایک دوسرے کی بات چوری کر لی ہے۔ مگر کس نے؟ ہوا نے شاید مسکرا کر اپنی بانہوں میں سب جواب بند کر لیے۔
اسی دن میں نے "یاد کا شُھلہ" سینے سے لگا لیا اور نیچے آگ کے پاس آ بیٹھا۔ میں نے کہا: بس۔ میرا اوپر جانا ختم۔ اب میری زبان نیچے ہی کو گائے گی۔ لوگ آئے۔ میں نے انہیں قصے سنائے۔ میں نے انہیں ان کے اپنے بچپن کے الفاظ دلوائے۔ کوئی کہتا: تم جادو کرتے ہو۔ میں کہتا: نہیں۔ یہ جادو نہیں ہے۔ یہ بس اندر والی زبان کی پکار ہے۔ اسے جو سن لے، اس کی پتھر ہلکے ہو جاتے ہیں۔
سالوں کی لائن لمبی ہوئی۔ عمارت اور بھی اونچی ہوئی۔ مگر اب ہر نئی منزل کے ساتھ نیچے کے چبوترے دراڑیں دکھانے لگے۔ ہم نے ان دراڑوں میں اپنا لال مسالہ بھر دیا۔ کچھ دن وہ ٹھیک، پھر وہی۔ کبھی کوئی کہتا: بس کرو۔ مگر کوئی رک نہیں پاتا۔ انسان کا دل ایسا ہے کہ جب وہ بیچ میں ہو، اسے آخر دیکھنا ہوتا ہے۔ آخر کیا تھا؟ شاید کوئی چوٹی۔ شاید ایک روشنی جو اندر سے باہر کو بہے۔ ہم نہیں جانتے تھے۔
پھر وہ دن آیا جس کو آج بھی یاد کر کے میرے ہاتھ کانپتے ہیں۔ "چڑھواں چاند" کی رات تھی۔ امّہ نے کہا تھا کہ آج سب سے بڑا پل بنایا جائے گا—بین پل۔ ہم سب کے دلوں کے بیچ۔ تاکہ "دوکانوں کی ہوا" نہ سنے، نہ سمجھ پائے، اور ہم سب اپنی بات کو ایک دوسرے تک پہنچا دیں۔ ہم نے سانس اندر لیا۔ دوسری زبان بولی۔ دیواروں نے سرگوشی کی۔ رَمہ، جو اب کم اوپر جاتی، اس رات آئی۔ وہ میرے پاس کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں وہ چمچہ تھا جو اب میرا تھا، مگر اس نے مانگ لیا تھا کہ اس کی آخری رات اسی سے پتھر سن لے۔ اس نے چمچہ دیوار پر چلایا۔ دیوار نے ایک لمبی، تھکی ہوئی آواز نکالی۔ ہم سب نے ساتھ ساتھ سانس چھوڑی۔ میں نے ڈھول کے بجائے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔ دل کی تال سنتا رہا۔
اچانک ہوا نے کسی بچے کی طرح اپنی آنکھوں میں شرارت بھر لی۔ وہ اوپر سے نیچے تک دوڑ گئی۔ رسّیاں ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔ کلّہ جو کب سے خاموش تھا، یکایک ایک ایسی کھنکار دینے لگا جو پہلے کبھی نہ سنی تھی—نہ ہنسی، نہ رونا، کچھ بیچ کا جو آدمی کے ہڈیوں کو ہلا دے۔ اس کھنکار کے ساتھ ہی اوپر سے ایک بڑا پتھر ہلا۔ اس کا وزن اس بار اندر سے بھی ہلا تھا۔ اس کا اندر کا وزن بھاری ہو گیا تھا۔ وہ نیچے آیا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کو روکا۔ میرے بازوؤں نے میری جوانی یاد کی۔ میں نے اسے تھاما۔ میرے ہاتھوں میں رَمہ کے چمچے کی تال گونجی۔ مجھے لگا کہ پتھر میرے رشتے دار جیسا ہے۔ میں نے اسے کنارے پر روک لیا۔ مگر اسی لمحے ایک اور ستون نے اپنے اندر کی تھکن دکھائی۔ وہ جھک گیا۔ اوپر سے آوازیں آئیں۔ لوگ چیخے۔ امّہ نے ڈھول تین بار لڑھکایا، جیسے کسی کو جگانا چاہتی ہو۔ اور فورمین… وہ جہاں تھا، وہیں جم گیا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانا خوف، اور ساتھ کوئی نئی شرمندگی۔ پھر اس نے لٹھ پھینک دیا۔
اُس رات ہم نے عمارت کو بچا لیا، مگر ہمیں پتہ چل گیا کہ اب یہ عمارت ہماری نہیں رہی۔ اس کی زبان کہیں اور کی ہے۔ اس کے کان کسی اور سمت سالے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اوپر نہیں جائیں گے جب تک "چڑھواں چاند" کی چُھٹی واپس نہ آئے۔ ہم نے اوپر والوں کو خبر دی۔ انہوں نے پہلے ہنسی اڑائی، پھر خاموش ہوئے، پھر سے وعدہ کیا۔ وعدہ ٹوٹتا رہا۔ ہم نیچے بیٹھے رہے۔
اسی دوران میں نے اپنے پیالے کی آخری رس بچا رکھی۔ میں اسے صرف ان لوگوں کو دیتا، جن کے چہرے میں کوئی چیز ٹوٹنے کے قریب ہو۔ وہ ایک بوند لیتے اور میں ان کے چہرے پر بدلاؤ دیکھتا۔ وہ یاد کرتے کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں۔ پھر وہ یا تو اوپر جانا چھوڑ دیتے یا پھر اوپر جانا اور مضبوط ہو جاتا۔ یہ رس کسی کی جگہ فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ صرف روشنی کی طرح سچ دکھاتا ہے۔
اور آج کی رات، جب یہ آگ جل رہی ہے اور تم سب میرے پاس بیٹھے ہو، میں وہی قصہ سنا رہا ہوں۔ مگر ابھی میرا قصہ ختم نہیں ہوا۔ تم نے کہا تھا کہ کہانی کی شروعات، بیچ اور انجام سب ہوں۔ سو سنو: اب انجام ہے۔
انجام
اس صبح سے پہلے کی رات میں نے امّہ کو خواب میں دیکھا۔ وہ ڈھول نہیں بجا رہی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے ہوا کی چادر درست کر رہی تھی۔ اس نے کہا: سلم، اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تم اپنی چھپی ہوئی یاد کو دیوار میں سے نکالو۔ میں چونکا۔ میں نے تو اپنی یاد کبھی کسی کو بتائی ہی نہیں تھی۔ میں نے اسے اپنی برسوں کی تھکن کے نیچے دفن کر رکھا تھا۔ وہ یاد کیا تھی؟ وہ ایک بچے کی ہنسی تھی، جو میرے بیٹے کی تھی۔ ہاں، میں نے ایک بیٹا دیکھا تھا۔ وہ صبح کے وقت بھاگتا تھا، نیچے بازار میں لال ڈور پکڑ کر۔ پھر ایک دن وہ بیمار ہوا اور وہ ہنسی دیواروں میں چلی گئی۔ میں نے اسے "چڑھن کی سوغات" میں چھپا دیا تھا، کیونکہ مجھے لگا تھا کہ اگر میں اسے پتھر میں رکھ دوں گا تو وہ ہنسی کبھی مرے گی نہیں۔ میں نے اس کے بعد کبھی اس ہنسی کو اپنے دل پر نہیں رکھا۔ میں نے سوچا: پتھر اسے سنبھال لے گا۔ مگر پتھر بھی تھک جاتے ہیں۔ امّہ نے کہا تھا: نکالو۔ اس یاد کو واپس اپنے دل کو دو۔
میں جاگا۔ صبح دم تھا۔ میں عمارت کے ایک پرانے کونے پر گیا جہاں میں نے وہ یاد چھپائی تھی۔ وہاں دیوار میں ایک ہلکی رگڑ تھی، جیسے کسی نے ناخن سے ایک نشان بنایا ہو۔ میں نے اپنے ہاتھ اس پر رکھے۔ میں نے اپنی دوسری زبان بولی۔ میرے سینے میں ایک بھاری سرد سمندر ہلکا ہوا۔ مجھے بچے کی ہنسی سنائی دی۔ وہ ہنسی دور سے آئی اور میرے ہاتھوں میں بیٹھ گئی۔ میں نے اسے اپنے دل میں رکھ لیا۔ میں رو دینے والا تھا کہ رَمہ وہاں آ گئی۔ وہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔ اس نے کہا: وقت پر ہو۔ پھر اس نے میرے ہاتھ کو تھاما۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے تھے۔ اس نے کہا: اب اس ہنسی کو ساتھ لے کر چلنا۔ اس سے تمہاری زبان نرم رہے گی، اور تمہارے الفاظ میں سچ کا ذائقہ رہے گا۔
اپنے دل کے اندر اس ہنسی کے ساتھ میں آگ کے پاس واپس آیا۔ تم سب یہاں ہو۔ یہ آگ جل رہی ہے۔ آسمان میں ہلال پھر سے رینگ رہا ہے۔ اس عمارت کو اوپر جاتے دیکھ کر اب میرا دل گھبراتا نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ چیزیں اوپر جاتی ہیں، کچھ نیچے رہتی ہیں۔ کچھ درمیان میں ہاتھ پکڑ کر کھڑی رہتی ہیں۔ میں نے یہاں ایک نئی رسم کی بات تمہیں نہیں بتائی۔ وہ رسم ہم نے آج سے شروع کرنی ہے۔ اس کا نام ہے "سایہ پیوند"۔ اس میں ہم سب اپنے اپنے سائے، جو دن میں لمبے ہوتے ہیں اور شام میں بکھر جاتے ہیں، اکٹھا کریں گے۔ ہم انہیں ایک لمبی سوتی چادر میں سی دیں گے۔ ہر آدمی کے سائے کا ایک ٹکڑا اس چادر میں لگے گا۔ پھر جب "دوکانوں کی ہوا" اپنا کھیل شروع کرے گی اور ہمارے لفظ بدلنے لگے گی، ہم وہ چادر اپنے سروں پر کھینچ لیں گے۔ اس چادر کے نیچے ہم سب ایک جون کی طرح جڑ جائیں گے۔ وہاں ہمارے دلوں کے لفظ محفوظ ہوں گے۔ ہمارے بچپن کے الفاظ اس چادر کے کناروں پر لٹکیں گے، جیسے گھونگھرو۔ جب کوئی جھوٹ بولے گا تو وہ گھونگھرو بجیں گے۔ جب کوئی سچ بولے گا تو وہ گھونگھرو خاموش ہو جائیں گے۔ یہ نئی رسم ہماری ہوگی۔ اس کا ذکر کہیں نہیں۔ اس کا نام آج ہم نے رکھا۔ سایہ پیوند۔
اب تم کہو گے کہ اس سے کیا ہوگا؟ شاید کچھ نہیں۔ شاید سب کچھ۔ رسمیں خود کچھ نہیں ہوتیں۔ وہ صرف ہمارے ہاتھوں کو ایک لَے دیتی ہیں۔ باقی ہمارے دلوں کا کام ہے۔ ہم یہ چادر آج رات سییں گے۔ رَمہ دھاگہ لائے گی۔ میں اپنے پیالے کی آخری بونداں اس پر ٹپکاؤں گا۔ فورمین، جو اب پچھتاوے میں نرم ہوا ہے، وہ چادر کو اپنے لٹھ سے سہارا دے گا کہ ہوا اسے نہ چھین لے۔ اور امّہ… شاید وہ دور کہیں اپنی ہوا کے ساتھ ہنستی ہوگی۔
تم کہتے ہو کہ کوئی عجیب بات بھی بتاؤ۔ سنو: جب ہم وہ چادر اپنے سروں پر رکھیں گے اور سانس اندر باہر کریں گے، تو تمہیں ایک ہلکی نم آواز سنائی دے گی۔ وہ آواز وہی ہے جو رات کو دیواروں کے بیچ چھپی مچھلیاں نکالتی ہیں جب وہ سانس لینے سطح پر آتی ہیں۔ یہ آواز تمہیں یاد دلوائے گی کہ پتھر زندہ ہیں جب تک تم انہیں اپنے دل سے جوڑے رکھتے ہو۔ تب تم پھر کل اوپر جاؤ گے۔ تمہارے پاؤں میلے ہوں گے، مگر تمہاری زبان صاف ہوگی۔ اور جب ہوا پھر اپنا کھیل کرے گی، تم ایک دوسرے کے آنکھوں میں دیکھ کر اپنے بچپن کا لفظ کہو گے۔ وہ لفظ "آم" ہو سکتا ہے، "چرخہ" ہو سکتا ہے، "ماں" ہو سکتا ہے۔ تب تمہارے بیچ ایک پل بنے گا—وہی بین پل—اور تم اس پر قدم رکھ کر اپنے پتھر ہلکے کر لو گے۔
میری بات یہاں ختم ہو رہی ہے۔ مگر کہانی ختم نہیں ہوتی۔ کہانی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سانس رک جائے۔ ابھی سانس ہے۔ اسی لیے میں یہ آخری بات کہوں گا۔
میں نے اپنی ساری عمر اس عمارت کے سائے میں گزاری۔ میں نے دیکھا کہ زبانیں بدلتی ہیں۔ ہوا اپنے کھلونے بدلتی ہے۔ رِسمیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ہم نے دیواروں کے اندر یادیں چھپائیں، خیالات چھپائے، اور کبھی کبھی اپنی ہنسی بھی چھپا دی۔ مگر آخر میں ہمیں سب واپس اپنے دل میں رکھنا پڑتا ہے۔ دل کے بغیر عمارت صرف پتھر ہے۔ دل کے ساتھ، وہ ایک گھر بن جاتی ہے۔ اور گھر کیا ہوتا ہے؟ گھر وہ جگہ ہے جہاں تم کسی کے بچپن کے لفظ پر ہنس سکتے ہو، اور وہ تم پر ہنس کے ناراض نہیں ہوتا۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں چاٹ کی خوشبو سے زیادہ کسی کے ہاتھ کی رگیں عزیز لگتی ہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں "سایہ پیوند" کی چادر کے نیچے تم اپنی زبان کی گانٹھ کھول لیتے ہو، اور کوئی تمہاری بات کو لٹھ سے نہیں ناپتا۔
اب تم سب اپنی اپنی جگہ لوٹو۔ اپنا اپنا دھاگہ سنبھالو۔ کل صبح جب سورج رسیوں پر پڑے گا، تم آنکھیں اوپر اٹھاؤ۔ اوپر ایک روشنی ہوگی۔ وہ روشنی شاید کسی کھڑکی سے آئے گی، یا کسی کی آنکھ سے۔ وہ روشنی جب تمہارے پتھر پر پڑے گی، تو اسے رشتے دار سمجھنا۔ اسے دشمن نہ سمجھنا۔ اور اگر کبھی ہوا نے تمہاری بات بدل دی، تو فوراً اپنے بچپن کا لفظ یاد کرنا۔ اسے اپنے دل سے نکالنا، زبان پر رکھنا۔ وہ لفظ تمہیں تم سے جوڑ دے گا۔ اور جب کبھی تم تھک جاؤ اور لگے کہ سب بیکار، تو آگ کے پاس آنا۔ یہاں میں ہوں۔ میرا پیالہ ہے۔ اس میں "یاد کا شُھلہ" کی آخری رَو رہ گئی ہے۔ میں اسے تمہیں دوں گا۔ تم ایک بوند سے اپنا راستہ دیکھ لو گے۔ پھر تم ہنسو گے اور کہو گے: چلو۔ اور تم چل پڑو گے۔
ایک آخری بات: میری چھپی ہوئی یاد جو میں نے نکالی تھی، اب یہ تم سب کی بھی ہے۔ وہ بچے کی ہنسی جو میرے بیٹے کی تھی، اب تم سب کی ہے۔ جب تم پتھر اٹھاؤ تو اس ہنسی کو اپنے کانوں میں رکھ لینا۔ جب تم ڈھول سنو تو اسے اس ہنسی کی تال سمجھنا۔ جب تم "سایہ پیوند" کی چادر کے نیچے بیٹھو تو اس ہنسی کو دھاگے کے ساتھ باندھنا۔ پھر دیکھو، ہوا بھی جب کھیل کرے گی، وہ ہنسی کے سامنے ٹھٹک جائے گی۔ کیونکہ ہوا کو بھی کبھی بچپن تھا۔ ہوا بھی کبھی کسی کے ہاتھ کے لَے میں نچی ہوگی۔ اسے وہ یاد آ جائے گی۔ تب وہ نرم ہو جائے گی۔ اور جب ہوا نرم ہو جائے تو عمارت کے زخم بھی کچھ بھر جاتے ہیں۔
یہی میری زندگی کی دانائی ہے۔ ایک بوڑھے کے لفظ۔ ایک پتھر کے قُربت میں کٹے سال۔ ایک ڈھول کی گونج میں سنائی دینے والی خاموش آواز۔ تم اگر پوچھو کہ آخر میں کیا ملا، تو میں کہوں گا: یہ کہ آدمی کو اپنی یادوں کو پتھر میں چھپانا نہیں چاہیے۔ یادوں کو دل میں رکھو، اور دل کو ایک دوسرے کے ساتھ سی دو۔ بس یہی ہماری بلند عمارت کی اصل بنیاد ہے۔ باقی سب اینٹ، مسالہ، رسّیاں… یہ آتے جاتے رہیں گے۔ مگر "سایہ پیوند" کی چادر اگر ہمارے پاس رہی، تو ہم کبھی ایک دوسرے کی بات سے دور نہیں ہوں گے۔
اب آگ تھک گئی ہے۔ اس کے شعلے نیند چاہتے ہیں۔ تم بھی جاؤ۔ میں بھی اپنی آنکھیں بند کروں گا۔ کل جب تم اوپر جاؤ گے تو میں یہاں نیچے بیٹھ کر تمہاری ہنسی سنوں گا۔ میرا دل اسے دیوار تک لے جائے گا۔ دیوار اسے اوپر پہنچائے گی۔ اور اوپر کوئی کسی جگہ مسکرائے گا، اور پتھر ہلکا ہو جائے گا۔ یہی ہمارا عہد ہے۔ یہی اس شہر کا سچ ہے۔ یہی اس عظیم عمارت کا نرم دل ہے، جو ہم سے بڑا ہے، مگر ہمارے اندر کی زبان سے بھی چھوٹا، کیونکہ اندر کی زبان میں ایک بچے کی ہنسی ہے۔ اور وہ ہنسی، اے میرے بیٹو، میری بیٹیو، یہ کبھی نہیں مرتی۔ یہ بس جگہ بدلتی ہے، جیسے ہوا کبھی شمال سے آتی ہے، کبھی جنوب سے۔ تم بس اپنی چادر سنبھالو۔ سایہ پیوند۔ اور اپنی زبانوں میں وہ لفظ بچا کر رکھو جسے تم بولتے ہو اور تمہارا دل اپنے گھر جانتا ہے۔
یہ قصہ ختم۔ آگ کو سلا دو۔ اور اپنی نیند میں بھی ذرا ہنس لینا، تاکہ دیواریں جانیں کہ ہم اب بھی جیتے ہیں۔
Did it land?